خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 690
خطبات مسرور جلد 12 690 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 نومبر 2014ء میں اس نے لکھا ہے کہ اسے میری بیعت کا خط ہی سمجھیں اور مجھے مزید لٹریچر بھجوائیں۔( یہ حضرت خلیفہ ثانی کے زمانے کی باتیں ہیں۔) مجھے جس مقام کے متعلق بھی علم ہوتا ہے کہ وہاں کوئی اسلام کی خدمت کرنے والا ہے میں وہاں خط لکھ دیتا ہوں۔چنانچہ اس نے لکھا ہے کہ میں نے انجمن اشاعت اسلام لاہور کو بھی ایک خط لکھا ہے۔میں نے مسجد لنڈن کے پتہ پر بھی ایک خط لکھا ہے۔میں نے واشنگٹن امریکہ کے پتہ پر بھی ایک خط لکھا ہے۔اب دیکھ لو فلپائن میں ہمارا کوئی مبلغ نہیں گیا لیکن لوگوں میں آپ ہی آپ احمدیت کی طرف رغبت پیدا ہورہی ہے۔یہ وہی گیند ہے جسے قادیان میں بیٹھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہٹ ماری تھی جو دنیا کے کناروں میں پہنچ رہا ہے۔“ الفضل 8 فروری 1956 ء صفحہ 4 جلد 10/45 نمبر 33) اب تو اس کی اتنی کثرت ہو گئی ہے کہ حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ دنیا سے خود بخود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تعارف کروا رہا ہے۔کئی واقعات مختلف وقتوں میں لوگوں کے بیان بھی کر چکا ہوں کہ خود رہنمائی فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ کس طرح تعارف کروا رہا ہے۔بعض لوگ عرصے کے بعد جب کہیں آپ کی تصویر دیکھتے ہیں تو پہچان لیتے ہیں یا خلفاء کی تصویریں دیکھتے ہیں تو پہچان لیتے ہیں کہ یہی تھے جو ہمیں اسلام کا صحیح پیغام دے رہے تھے۔پھر ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ بغیر محنت دینی یا محنت دنیوی کے کوئی انسان عزت حاصل نہیں کر سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے زمانے میں تمام عزت خدا نے ہمارے ساتھ وابستہ کر دی ہے۔( یعنی اب اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جو زمانہ ہے اس میں تمام عزت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ وابستہ ہو گئی۔) اب عزت پانے والے یا ہمارے مرید ہوں گے یا ہمارے مخالف ہوں گے۔( یعنی مخالفین کو بھی اگر عزت ملے گی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وجہ سے ہی ) چنانچہ ( آپ ) فرماتے تھے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب (ہی ) کو دیکھ لو وہ کوئی بڑے مولوی نہیں۔ان جیسے ہزاروں مولوی پنجاب اور ہندوستان میں پائے جاتے ہیں۔ان کو اگر اعزاز حاصل ہے تو محض ہماری مخالفت کی وجہ سے۔وہ لوگ خواہ اس امر کا اقرار کریں یا نہ کریں) مگر واقعہ یہی ہے کہ آج ہماری مخالفت میں عزت ہے یا ہماری تائید میں۔گو یا اصل مرکزی وجود ہمارا ہی ہے۔اور مخالفین کو بھی اگر عزت حاصل ہوتی ہے تو ہماری وجہ سے۔“ ( تفسیر کبیر جلد 8 صفحہ 614) اس کو مزید کھول کر آپ نے ایک جگہ اس طرح بھی بیان فرمایا ہے کہ ”جب تک کوئی انسان کمال