خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 689
خطبات مسرور جلد 12 689 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 نومبر 2014ء ہے۔پس اسلامی آداب میں ہمیں بھی خاص طور پر توجہ دینی چاہئے۔ان لوگوں کو جو آجکل ایم ٹی اے پر آتے ہیں۔انہیں خیال رکھنا چاہئے۔اس کے ذریعے عموماً تو نوجوان آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے عموماً ان کے پروگرام بڑے اچھے ہیں لیکن ایک پروگرام جو آجکل ربوہ سے بن کر آ رہا ہے اور اس میں مربی اور واقف زندگی بھی بیٹھے ہوتے ہیں۔اس میں ایک تو بیٹھنے کا انداز بڑا غلط ہوتا ہے۔کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں اور ٹانگیں کھول کر بیٹھے ہوئے ہیں ، ساتھ ہلتے چلے جارہے ہیں کوئی وقار نہیں ہے۔سر پر ٹوپی نہیں ہے اور اس قسم کے پروگرام جور بوہ سے بن کے آئیں ان کو تو کسی صورت میں بھی برداشت نہیں کیا جاسکتا۔اس لئے آئندہ سے ایم ٹی اے والے جو پاکستان میں ہیں ان کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے۔پروگرام بیشک اپنی نوعیت کے لحاظ سے اچھا ہو لیکن اگر اس کو conduct کرنے والا ، اس کو present کرنے والا اچھا نہیں ہے تو وہ پروگرام کبھی نہیں لگایا جائے گا۔اس لئے میں نے آئندہ سے وہ پروگرام روک بھی دیئے ہیں۔اور خاص طور پر مربیان کو تو بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ان کا ایک اپنا وقار ہے اور ان کو یہی سمجھنا چاہئے کہ ہم نے اس وقار کو قائم کرنا ہے۔ایک عام دنیا دارلٹر کا اگر ایسی حرکت کرتا ہے تو وہ قابل برداشت ہے لیکن اگر ایک مربی کرے تو نا قابل برداشت ہے۔اور مجھے بعض لوگوں نے لکھا بھی۔توجہ بھی دلائی ہے۔ہر کوئی اس چیز کومحسوس کر رہا ہے کہ ربوہ سے ایک پروگرام بنتا ہے اور اس میں اس قسم کا، وقار کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا۔ایک واقعہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ”ہم بھی بچپن میں مختلف کھیلیں کھیلا کرتے تھے۔میں عموماً فٹبال کھیلا کرتا تھا۔جب قادیان میں بعض ایسے لوگ آگئے جو کرکٹ کے کھلاڑی تھے تو انہوں نے ایک کرکٹ ٹیم تیار کی۔حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ ایک دن وہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ جاؤ حضرت صاحب سے عرض کرو کہ وہ بھی کھیلنے کے لئے تشریف لائیں۔چنانچہ میں اندر گیا۔آپ اس وقت ایک کتاب لکھ رہے تھے۔جب میں نے اپنا مقصد بیان کیا تو آپ نے قلم نیچے رکھ دی اور فرمایا۔تمہارا گیند تو گراؤنڈ سے باہر نہیں جائے گالیکن میں وہ کرکٹ کھیل رہا ہوں جس کا گیند دنیا کے کناروں تک جائے گا۔اب دیکھ لو کیا آپ کا گیند دنیا کے کناروں تک پہنچا ہے یا نہیں۔اس وقت امریکہ، ہالینڈ، انگلینڈ، سوئٹزرلینڈ، مڈل ایسٹ، افریقہ، انڈونیشیا، اور دوسرے کئی ممالک میں آپ کے ماننے والے موجود ہیں۔فلپائن کی حکومت ہمیں مبلغ بھیجنے کی اجازت نہیں دیتی تھی لیکن پچھلے دنوں وہاں سے برابر بیعتیں آنی شروع ہو گئی ہیں۔ابھی تین چار دن ہوئے ہیں فلپائن سے ایک شخص کا خط آیا ہے جس