خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 688
خطبات مسرور جلد 12 688 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 نومبر 2014ء صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کے ادب اور آپ کے مقام کا کس قدر لحاظ رکھتے تھے، خیال رکھتے تھے اور اس کے لئے کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتے تھے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں اور یہ واقعہ بیان کر کے آپ نے توجہ دلائی ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جو اسلامی اخلاق اور آداب ہوتے ہیں، ان کی طرف ہمیشہ توجہ دیں۔آپ اپنے ایک خطبہ میں بیان فرماتے ہیں کہ ” میں نے دیکھا ہے کہ نوجوانوں کو اسلامی آداب سکھانے کی طرف توجہ ہی نہیں کی جاتی۔نوجوان بے تکلفانہ ایک دوسرے کی گردن میں بانہیں ڈالے پھر رہے ہوتے ہیں۔حتی کہ میرے سامنے بھی ایسا کرنے میں انہیں کوئی باک نہیں ہوتا کیونکہ ان کو یہ احساس ہی نہیں کہ یہ کوئی بُری بات ہے۔ان کے ماں باپ اور اساتذہ نے ان کی اصلاح کی طرف کبھی کوئی توجہ ہی نہیں کی حالانکہ یہ چیزیں انسانی زندگی پر بہت گہرا اثر ڈالتی ہیں۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگوں کی بچپن میں تربیت کا اب تک مجھ پر اثر ہے اور جب وہ واقعہ یاد آتا ہے تو بے اختیار ان کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے۔ایک دفعہ میں ایک لڑکے کے کندھے پر کہنی ٹھیک کر کھڑا تھا کہ ماسٹر قا در بخش صاحب نے جو مولوی عبد الرحیم صاحب درد کے والد تھے اس سے منع کیا اور کہا کہ یہ بہت بری بات ہے۔اس وقت میری عمر بارہ تیرہ سال کی ہوگی لیکن وہ نقشہ جب بھی میرے سامنے آتا ہے ان کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے۔اسی طرح ایک صو بیدار صاحب مراد آباد کے رہنے والے تھے ان کی ایک بات بھی مجھے یاد ہے“۔لکھتے ہیں کہ ”ہماری والدہ چونکہ دتی کی ہیں اور دتی بلکہ لکھنو میں بھی ” تم کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔بزرگوں کو بیشک آپ کہتے ہیں لیکن ہماری والدہ کے کوئی بزرگ چونکہ یہاں تھے نہیں کہ ہم ان سے آپ کہہ کر کسی کو مخاطب کرنا بھی سیکھ سکتے۔اس لئے میں دس گیارہ سال کی عمر تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ” تم ہی کہا کرتا تھا۔اللہ تعالیٰ ان ( صو بیدار صاحب) کی مغفرت فرمائے اور ان کے مدارج بلند کرے۔کہتے ہیں ” صو بیدار محمد ایوب خان صاحب مراد آباد کے رہنے والے تھے۔گورداسپور میں مقدمہ تھا اور میں نے بات کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تم کہہ دیا۔وہ صو بیدار صاحب مجھے الگ لے گئے اور کہا کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرزند ہیں اور ہمارے لئے محل ادب ہیں۔لیکن یہ بات یا درکھیں کہ ” تم “ کا لفظ برابر والوں کے لئے بولا جاتا ہے بزرگوں کے لئے نہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے اس کا استعمال میں بالکل برداشت نہیں کر سکتا۔یہ پہلا سبق تھا جو انہوں نے اس بارہ میں مجھے دیا۔(الفضل 11 مارچ 1939 ء صفحہ 7 جلد 27 نمبر 58)