خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 687
خطبات مسرور جلد 12 687 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 نومبر 2014ء پر حکمران ہوتے تو وہ دوسرے معاملات میں انگریزوں سے بھی اچھے ہوتے۔ممکن ہے وہ اللہ تعالیٰ کا خوف ان سے زیادہ رکھنے والے اور زیادہ عدل کرنے والے ہوتے مگر انفرادی آزادی وہ اتنی نہ دیتے جتنی انگریزوں نے دی ہے۔وہ اشخاص کے لحاظ سے تو اچھے ہوتے مگر سلسلے کے لحاظ سے ہمارے لئے مضر ہوتے۔( یعنی کسی شخص کے تعلقات کے بارے میں ہو سکتا ہے کہ اچھے ہوتے لیکن بحیثیت مجموعی جماعت کے لحاظ سے وہ مضر ہوتے۔) اور اس کے یہ معنی ہوتے کہ جب تک اسلامی حکومت قائم نہ ہو جاتی اسلامی تعلیم کو قائم کرنے کا دائرہ ہمارے لئے بہت ہی محدود ہوتا اور اسلامی احکام میں سے بہت ہی تھوڑے ہوتے جن کو ہم قائم کر سکتے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہی معنوں کے لحاظ سے انگریزی حکومت کو رحمت قرار دیا ہے۔لوگ اعتراض کرتے ہیں ناں انگریزوں کا خود کاشتہ پودا تو فرمایا اس لئے رحمت قرار دیا ہے اور اس قوم کی تعریف کی ہے کہ انہوں نے آزادی دی ہے۔آپ کا یہ مطلب نہیں کہ انگریز انصاف زیادہ کرتے ہیں بلکہ ہو سکتا ہے کہ انصاف کے معاملہ میں کوئی دوسری حکومت اس سے اچھی ہو۔قابل تعریف بات یہی ہے کہ اس قوم کے تمدن کا طریق یہ ہے کہ اس نے اپنی حکومت کو انفرادی معاملات میں دخل اندازی کے اختیارات نہیں دیئے“۔۔T۔۔۔"_ الفضل 21 جنوری 1938 صفحہ 4 جلد 26 نمبر 17 ) قلم کے جہاد کے بارے میں آپ نے ایک ارشاد فرمایا کہ انبیاء کا دل بڑا شکر گزار ہوتا ہے۔ایک معمولی سے معمولی بات پر بھی بڑا احسان محسوس کرتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں جب دن رات چھپتیں تو باوجود اس کے کہ آپ کئی کئی راتیں بالکل نہیں سوتے تھے۔لیکن جب کوئی شخص رات کو پروف لاتا تو اس کے آواز دینے پر خود اٹھ کر لینے کے لئے جاتے ( یعنی کتابت ہوکر آتی تو خود لینے کے لئے جاتے ) اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے جاتے کہ جَزَاكَ اللهُ أَحْسَنَ الْجَزَاء۔اس کو کتنی تکلیف ہوئی ہے۔یہ لوگ کتنی تکلیف برداشت کرتے ہیں۔خدا ان کو جزائے خیر دے۔حالانکہ آپ خود ساری رات جاگتے رہتے تھے۔فرماتے ہیں کہ ”میں کئی بار آپ کو کام کرتے دیکھ کر سویا اور جب کہیں آنکھ کھلی تو کام ہی کرتے دیکھا حتی کہ صبح ہو گئی۔دوسرے لوگ اگر چہ خدا کے لئے کام کرتے تھے لیکن آپ (علیہ السلام) ان کی تکلیف کو بہت محسوس کرتے تھے۔کیوں؟ اس لئے کہ انبیاء کے دل میں احسان کا بہت احساس ہوتا ہے۔الفضل 19 اگست 1916ء صفحہ 7 جلد 4 نمبر 13 )