خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 686
خطبات مسرور جلد 12 686 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 نومبر 2014ء قرآن کیا ہے۔وہ عرفان کیا حاصل کر سکتا ہے“۔(خطبات محمود جلد 2 صفحہ 174) پس اصل چیز جو ہمیں چاہئے وہ یہ ہے کہ ہم اللہ اور رسول کے احکامات کو سمجھیں ، ان پر غور کریں اور ان کی ذات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔قرآن کریم کو سمجھیں۔اور یہی حقیقت ہے جس سے دماغ روشن ہوتے ہیں۔حکومت کی وفاداری کے بارے میں آپ ایک جگہ بیان کرتے ہیں کہ ”جب میں بچہ تھا اور ابھی میں نے ہوش ہی سنبھالا تھا، اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان سے گورنمنٹ کی وفاداری کا میں نے حکم سنا اور اس حکم پر اس قدر پابندی سے قائم رہا کہ میں نے اپنے گہرے دوستوں سے بھی اس بارے میں اختلاف کیا۔حتی کہ اپنے جماعت کے لیڈروں سے اختلاف کیا“۔(خطبات محمود جلد 15 صفحہ 323) بعض لوگوں کو شوق ہوتا ہے کہ بحث کریں کہ فلاں کام کی وجہ سے ہمیں حکومت کا حکم نہیں ماننا چاہئے۔سوائے اس کے کہ جہاں شرعی روکیں ڈالنے کی حکومت کوشش کرے، باقی نہیں۔پھر اس کو آپ آگے ایک جگہ مزید کھول کے فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا ہے کہ برطانوی حکومت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک رحمت ہے۔اس کے یہ معنے نہیں کہ انگریز قوم کے افراد بہت نیک اور اسلام کی تعلیم کے قریب ہیں۔ان میں بھی ظالم ، غاصب، فاسق ، فاجر اور ہر قسم کا خبث رکھنے والے لوگ موجود ہیں اور دوسری قوموں میں بھی (ہیں)۔ان میں بھی اچھے لوگ ہیں اور دوسری قوموں میں بھی ( ہیں )۔جو چیز رحمت ہے وہ یہ ہے کہ یہ حکومت افراد کی آزادی میں بہت کم دخل دیتی ہے۔اور وہ جن جن معاملات میں دخل نہیں دیتی ان میں اسلام کی تعلیم کو قائم کرنے کا ہمارے لئے موقع ہے۔پس یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ایسی قوم کو ہم پر حاکم مقرر کیا۔( یہ اس زمانے کی بات ہے جب ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت تھی ) کہ جو افراد کے معاملات میں بہت کم دخل دیتی ہے۔ابھی گزشتہ دنوں ہماری یہاں کا نفرنس ہوئی۔وہاں ایک پریس کی رپورٹر نے مجھے کہا کہ یہاں بھی وہی حالات ہیں۔اس کو میں نے یہی جواب دیا تھا کہ مذہب کے معاملے میں یہ حکومت دخل نہیں دیتی۔اس لئے حالات تو ہم کہہ ہی نہیں سکتے کہ پاکستان جیسے یا کسی اور ایسے ملک جیسے یہاں حالات ہوں جہاں احمدیت پر پابندیاں لگائی گئی ہیں۔بہر حال آپ فرماتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ اگر نائٹسی یا فیشسٹ لوگ ہم