خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 685
خطبات مسرور جلد 12 685 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 نومبر 2014ء فرمایا ہمارا کام صبر کرنا اور قانون کی پابندی اختیار کرنا ہے۔پھر مجھے یاد ہے میں بچہ تھا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بچپن سے ہی مجھے رویائے صادقہ ہوا کرتے تھے۔میں نے خواب میں دیکھا کہ دیوار گرائی جارہی ہے اور لوگ ایک ایک اینٹ کو اٹھا کر پھینک رہے ہیں۔اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے کچھ بارش بھی ہو چکی ہے۔اسی حالت میں میں نے دیکھا ( خواب میں ) کہ مسجد کی طرف حضرت خلیفہ اول تشریف لا رہے ہیں۔(آپ فرماتے ہیں کہ ) جب مقدمہ کا فیصلہ ہوا اور دیوار گرائی گئی تو بعینہ ایسا ہی ہوا۔اس روز کچھ تو بارش بھی ہوئی اور درس کے بعد حضرت خلیفہ اول جب واپس آئے تو آگے دیوار توڑی جارہی تھی۔میں بھی کھڑا تھا چونکہ اس خواب کا میں آپ سے پہلے ذکر کر چکا تھا، اس لئے مجھے دیکھتے ہی آپ (حضرت خلیفہ امسیح الاول) نے فرمایا۔میاں دیکھو آج تمہارا خواب پورا ہو گیا۔“ (خطبات محمود جلد 15 صفحہ 206-207) پھر آپ اسی دور کی بات کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ایک زمانہ وہ بھی تھا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں مخالفین نے مسجد کا دروازہ بند کر دیا اور آپ کئی دفعہ گھر میں پردہ کرا کر لوگوں کو مسجد میں لاتے۔( یعنی گھر کے اندر سے گزار کے لانا پڑتا تھا ) اور کئی لوگ اوپر سے ہو کر آتے لمبا چکر کاٹ کر )۔سال یا چھ ماہ تک یہ راستہ بند ر ہا۔آخر مقدمہ ہوا اور خدا تعالیٰ نے ایسے سامان کئے کہ دیوار گرائی گئی۔“ خطبات محمود جلد 20 صفحہ 574-575) اب جو قادیان جانے والے ہیں وہ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے کشادہ راستے وہاں بنا دیئے گئے ہیں۔بچوں کی دلداری کے بارے میں ایک جگہ اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مجھے اپنے بچپن کی بات یاد ہے کہ ہماری والدہ صاحبہ بھی ناراض ہو کر فر ما یا کرتیں کہ اس کا سر بہت چھوٹا ہے ( یعنی حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا۔) تو مجھے یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے یہ کوئی بات نہیں۔رائیکین جو بہت مشہور وکیل تھا اور جس کی قابلیت کی دھوم سارے ملک میں تھی اس کا سر بھی بہت چھوٹا سا تھا۔آپ کہتے ہیں کہ ” بڑے سر اس بات پر دلالت نہیں کرتے کہ وہ بہت عقلمند ہیں۔جو شخص اپنی اولاد کو علم اور عرفان سے محروم کرتا ہے اس کا سرا گر چہ بڑا ہی ہو تب بھی وہ بے عقل ہی ہے۔جس شخص کا اتنا دماغ ہی نہیں کہ سمجھ سکے خدا اور رسول کیا ہے۔