خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 684 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 684

خطبات مسرور جلد 12 رض 684 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 نومبر 2014ء ہو۔اب پاکستان میں بھی یا دوسرے ممالک میں بھی اسی طرح صورتحال ہے۔لیکن بعض دفعہ بعض ڈاکٹر جو ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ہم کسی مریض کا علاج کر رہے ہیں تو ہمارا ہی علاج ہونا چاہئے۔کسی اور مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔حضرت سارہ بیگم صاحبہ جو حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی اہلیہ تھیں ان کے بچہ کی پیدائش کے وقت ان کی وفات بھی ہوگئی تھی اس وقت کے بارے میں آپ نے بیان کیا کہ ڈاکٹروں کو چاہئے کہ مشورہ کرتے۔اگر اس صورت میں مشورہ ہوتا تو شاید ایک جان بچائی جاسکتی تھی۔اس لئے آپ نے فرمایا کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جن کی اللہ تعالیٰ نے تمام دعائیں قبول کرنے کا وعدہ فرمایا تھا وہ دوسروں کو دعا کے لئے بھی کہتے تھے تو باقی لوگ جو ہیں انہیں اپنے اپنے پیشے میں اگر کہیں مشورے کی ضرورت ہو اور دعاؤں کی ضرورت ہو تو ضرور اس پر عمل کرنا چاہئے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 14 صفحه 131-132) اپنے بارے میں ایک اور بات بیان فرماتے ہیں ' ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب کے مکان پر اس سفر میں کہ جس میں حضرت مسیح موعود فوت ہوئے۔ایک دفعہ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کسی ہند و پیشنر سیشن جج کی آمد کی خبر دینے آئے جو بغرض ملاقات آئے تھے۔آپ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام) نے اس وقت ان سے کہا کہ میں بھی بیمار ہوں مگر محمود بھی بیمار ہے۔مجھے اس کی بیماری کا زیادہ فکر ہے۔آپ اس کا توجہ سے علاج کریں۔( اصلاح نفس، انوار العلوم جلد 5 صفحہ 456) اپنی بیماری کو بھول گئے اور آپ کو پتا تھا کہ یہ بیٹا جو ہے مصلح موعود بننے والا ہے اس لئے آپ کو فکر ہوئی۔دیوار کا ایک مقدمہ بڑا مشہور مقدمہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں لڑا گیا جس میں آپ کے خاندان کے مخالفین نے مسجد کے راستے پہ دیوار کھڑی کر دی اور راستہ بند کر دیا۔اس کے بارے میں بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ” میں بچہ تھا لیکن مجھے خوب یاد ہے یہاں ہمارے ہی بعض عزیز راستہ میں کیلے گاڑ دیا کرتے تھے تا کہ جب مہمان نماز پڑھنے آئیں تو رات کی تاریکی میں ان کیلوں کی وجہ سے ٹھوکر کھائیں۔چنانچہ ایسا ہی ہوتا اور اگر کیلے اکھاڑے جاتے تو وہ لڑنے لگ جاتے۔اسی طرح مجھے خوب یاد ہے کہ مسجد مبارک کے سامنے دیوار مخالفوں نے کھینچ دی تھی۔بعض احمد یوں کو جوش بھی آیا اور انہوں نے دیوار کو گرا دینا چاہا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے