خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 62 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 62

خطبات مسرور جلد 12 62 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 جنوری 2014ء انہیں بتایا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے قرب کے کیا فوائد ہیں۔جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں بھی کہا تھا کہ اس دور میں جب شیطان بھر پور حملے کر رہا ہے تو ان باتوں کے بارے میں بتانے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔یہ ذکر متواتر اور بار بار ہونا چاہئے۔یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت انسان کو کس طرح حاصل ہو سکتی ہے اور اُس کا پیار جب کسی انسان کے شامل حال ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس سے کس طرح امتیازی سلوک کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں اس بارے میں کس طرح بتایا ہے۔مختلف قوموں سے جو نئے احمدی ہو رہے ہیں ، افریقہ میں سے بھی اور زیادہ تر عربوں میں سے بھی، وہ اپنے واقعات لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب پڑھ کر اُن میں تبدیلیاں ہوئیں، اُن کے ایمان میں اضافہ ہوا۔بیشک کتب پڑھ کر اُن کی اعتقادی غلط فہمیاں بھی دور ہو ئیں اور اعتقادی لحاظ سے اُن کے علم میں اضافہ ہوکر اُن کو ایمان کی نئی راہیں نظر آئیں۔لیکن ایمان کی مضبوطی اُن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے نشانات کو دیکھنے ، آپ کی وحی کی حقیقت کو سمجھنے اور آپ کے تعلق باللہ سے پیدا ہوئی اور پھر اللہ تعالیٰ نے بھی اُنہیں بعض نشانات دکھا کر اپنے قرب کا نظارہ دکھا دیا۔حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نشانات، وحی، الہامات اور تعلق باللہ جو ہمارے دلوں میں بھی ایمان کی کرنوں کو روشن تر کرے، کی اہمیت اپنے انداز میں بیان فرماتے ہوئے یوں فرمایا کہ: حضرت عیسی بیشک زندہ آسمان پر بیٹھے رہیں۔اُن کا آسمان پر زندہ بیٹھے رہنا اتنا نقصان دہ نہیں ہے جتنا خدا تعالیٰ کا ہمارے دلوں میں مردہ ہو جانا نقصان دہ ہے۔پس کیا فائدہ اس بات کا کہ تم حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات پر زور دیتے رہو جبکہ خدا تعالیٰ کو لوگوں کے دلوں میں تم مار رہے ہو اور اُسے زندہ کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔خدا تعالیٰ تو حی و قیوم ہے اور کبھی نہیں مرتا مگر بعض انسانوں کے لحاظ سے وہ مر بھی جاتا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ حضرت خلیفہ المسح الاول رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول کے ایک استاد جو بھو پال کے رہنے والے تھے، کہتے ہیں کہ : انہوں نے ایک دفعہ رویا میں دیکھا کہ بھوپال کے باہر (بھو پال ہندوستان کا ایک شہر ہے ) ایک پل ہے، وہاں ایک کوڑھی پڑا ہوا ہے جو کوڑھی ہونے کے علاوہ آنکھوں سے اندھا ہے، ناک اُس کا کٹا ہوا ہے، انگلیاں اُس کی جھڑ چکی ہیں اور تمام جسم میں پیپ پڑی ہوئی ہے۔سکھیاں اُس پر بھنبھنا رہی ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اُسے دیکھ کر مجھے سخت کراہت آئی۔اور میں نے پوچھا کہ بابا تو کون ہے؟ وہ کہنے لگا کہ میں خدا