خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 668 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 668

خطبات مسرور جلد 12 668 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 نومبر 2014ء بھی سمجھ میں آئی کہ خدا تعالیٰ اپنے وعدوں کا سچا ہے۔اگر اس کی راہ میں قربانی کرو گے تو وہ ضرور کئی گنا بڑھا کر تمہیں واپس لوٹائے گا۔اب انہوں نے کوگی (Kogi) سٹیٹ کے کیپیٹل لوکوجا (Lokoja) میں جماعت کو مسجد اور مشن ہاؤس کے لئے ایک بہت بڑا پلاٹ بھی شہر کے علاقے میں لے کر دیا ہے۔تنزانیہ سے ایک احمدی مارونڈا صاحب لکھتے ہیں کہ میری تعلیم میٹرک ہے۔ایک عرصے سے بیروز گار تھا۔مجھے ایک گیس کمپنی میں سیکیورٹی گارڈ کی ملازمت مل گئی۔چھپن ہزار شلنگ تنخواہ مقرر ہوئی۔میں نے اسی وقت خدا سے عہد کیا کہ میں اپنی تنخواہ پر چندہ جات شرح کے مطابق ادا کروں گا۔خواہ مجھے کیسے ہی مسائل درپیش ہوں میں چندے میں سستی نہیں کروں گا۔چنانچہ اس خادم نے اپنے اس عہد کو نبھایا۔کہتے ہیں کہ میں آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسی مالی قربانی کے باعث اس گیس کمپنی میں سینیئر فیلڈ گیس آپریٹر کے عہدے پر فائز ہوں اور مجھے ڈیڑھ ملین شلنگ تنخواہ مل رہی ہے۔میری علمی قابلیت صرف معمولی دسویں پاس ہی ہے۔کمپنی کے قوانین کے مطابق میں اس عہدے کا اہل بھی نہیں ہوں۔لیکن محض خدا تعالیٰ کے فضل سے شرح کے مطابق مالی قربانی کرنے کی یہ برکتیں ہیں کہ میں اس عہدے پر فائز ہوں اور آج بھی شرح کے مطابق چندہ ادا کرتا ہوں۔پس یہ لوگ اخلاص و وفا میں بڑھ رہے ہیں اور وَأَنْفِقُوا خَيْرًا لِانْفُسِكُمْ۔(التغابن : 17 ) اور اپنے مال اس کی راہ میں خرچ کرتے رہو تو یہ تمہاری جانوں کے لئے بہتر ہے، اس مضمون کو سمجھنے والے ہیں۔اس راز کو یہ لوگ سمجھنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ پھر ان کو نوازتا بھی ہے۔شہاب الدین صاحب انڈیا کے انسپکٹر تحریک جدید لکھتے ہیں کہ ایک صاحب جو جڑ چرلہ کے صف اول کے مجاہد ہیں ان کا کاروبار متاثر ہو گیا۔Real اسٹیٹ کا کاروبار تھا۔کئی ماہ سے بہت پریشان تھے اور فون کر کے وہ چندوں کی ادائیگی کے لئے دعا کی درخواست بھی کرتے رہے۔مجھے بھی انہوں نے لکھا۔ایک دن رات کو یہ انسپکٹر شہاب صاحب کہتے ہیں کہ مجھے ان کا فون آیا۔اپنے مالی حالات کی وجہ سے بڑے فکر مند تھے۔انہوں نے ان کو کہا کہ آپ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں۔دو رکعت نفل پڑھیں اور سوجائیں۔کہتے ہیں تھوڑی دیر کے بعد دوبارہ فون آیا اور کہنے لگے کہ میری خاطر آپ تھوڑی دیر جاگتے رہیں میں آپ سے ملنے آ رہا ہوں۔جب موصوف آئے تو ایک بڑی رقم ان کے ہاتھ میں تھی۔کہنے لگے کہ جب میں یہ دعا کر رہا تھا تو ایک ایسا شخص جس کا بڑا کاروبار تھا اس کا فون آیا جس کے ذمے میری بہت بڑی رقم قابل ادا تھی اور جس کے ملنے کی امید بھی نہیں تھی۔اس نے مجھے فون کیا کہ فورا آ کر اپنی رقم لے جاؤ۔تو کہتے ہیں کہ کیونکہ