خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 665 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 665

خطبات مسرور جلد 12 665 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 نومبر 2014ء چندے بھی ہیں تو انہوں نے کہا کہ بیشک ہوں گے لیکن اس میں سے میں کم نہیں کروں گا۔اللہ تعالیٰ ان کے لئے اور سامان پیدا فرمادے گا۔تو یہ وہ روح ہے جو ان لوگوں میں پیدا ہورہی ہے۔بہر حال یہ مربی نے بھی صحیح کیا کہ انکو بتادیا کیونکہ مقصد رقم اکٹھی کرنا نہیں ہے۔مقصد وہ روح پیدا کرنا ہے جو ایک قربانی کی روح ہے۔مالی قربانی کی روح ہے تا کہ اس کے ذریعہ سے تزکیہ نفس بھی ہو۔گزشتہ دنوں ربوہ میں ختم نبوت کانفرنس ہو رہی تھی۔ہر سال ہوتی ہے، یہاں بھی ہوتی ہے۔تو وہاں پہلے تو ایک مولوی صاحب نے بڑی دھواں دار تقریر کی کہ جماعت احمدیہ کو بڑی بڑی طاقتیں اور حکومتیں فنڈ کرتی ہیں جس کی وجہ سے یہ ترقی کر رہی ہے۔لیکن تھوڑی ہی دیر کے بعد خود ہی اللہ تعالیٰ نے ان کی زبان سے نکلوا دیا اور وہ جوش میں یہ بھی کہہ گئے کہ دیکھو جماعت احمد یہ اس لئے ترقی کر رہی ہے کہ ان کے غریب بھی مالی قربانی کرتے ہیں اور یہ ان کا چندہ ہے جس کی وجہ سے دنیا میں وہ تبلیغ اسلام کر رہے ہیں اور ہم سے وہ بہت آگے نکل گئے ہیں۔بہر حال کسی حکومت کی نہ ہمیں مدد کی ضرورت ہے اور نہ لی جاتی ہے۔یہ جماعت کے افراد کا اخلاص اور قربانی کی روح ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ برکت ڈالتا ہے۔پھر بینن سے ہمارے ساوے ریجن کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک نومبائع جماعت پیل (Peulh) میں تربیتی اجلاس منعقد کیا گیا تو تحریک جدید کا تاریخی پس منظر بیان کیا گیا اور مالی قربانی کے بارے میں توجہ دلائی۔اجلاس کے آخر پر دوستوں نے اپنا اپنا چندہ پیش کیا۔ایک دوست نے پوچھا کہ میرے پاس رقم تو نہیں لیکن چندہ دینے کی خواہش ہے۔اس پر وہاں کے مقامی مبلغ نے اس کی رہنمائی کی کہ حسب استطاعت جو کچھ ہے وہ پیش کریں۔اس پر وہ دوست گئے۔بڑے غریب تھے۔گھر سے مرغی کے دو انڈے لے کر آئے کہ اس وقت میرے پاس یہ ہیں۔تو ان کو اور جماعت کو بھی بتایا گیا کہ یہ ان کی حیثیت کے مطابق بہت بڑی قربانی ہے اور خدا تعالیٰ کی نظر میں کوئی قربانی چھوٹی نہیں۔بس نیست نیک ہونی چاہئے۔یہ باتیں جو افریقہ کے دور دراز ممالک میں ہو رہی ہیں اس طرف بھی توجہ پھیرتی ہیں جب حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں تحریک پر غریب عورتیں اسی طرح مرغیاں اور انڈے لے کے آجایا کرتی تھیں اور یہ اس لئے ہے کہ دین اسلام کی اشاعت کی تڑپ ان لوگوں میں ہے۔پھر مالی کی ایک رپورٹ ہے۔ایک پرانے احمدی ابوبکر جارہ صاحب نے کسی وجہ سے چندہ دینا چھوڑ دیا اور آہستہ آہستہ جماعتی پروگراموں میں بھی آنا چھوڑ دیا۔اس پر انہیں کافی سمجھا یا مگر کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ایک عرصے کے بعد وہ ایک دن مشن آئے اور اپنا چندہ ادا کیا اور بتایا کہ آج رات انہوں نے