خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 663 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 663

خطبات مسرور جلد 12 663 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 نومبر 2014ء پریشانی میں یہ مربی صاحب کے پاس آئے تو انہوں نے ان کو یہی کہا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کر وتو اللہ تعالیٰ پریشانیاں دور کرتا ہے۔تم بھی یہ نسخہ آزما کے دیکھ لو۔کہتے ہیں اس تحریک پر میں نے تحریک جدید کا چندہ دے دیا اور یہ عہد کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور جلد ہی انتظام ہو گیا تو دس ہزار مزید دوں گا۔وہ خادم کہتے ہیں کہ رسید کٹانے کے بعد ہی فوری طور پر اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کیا کہ اتنے گا ہک آئے کہ چند دنوں میں بیچ پک گیا اور اُن کی توقع سے جو زیادہ آمد ہوئی اُس کی وجہ سے انہوں نے دس ہزار مزید چندہ میں دیا۔اسی طرح برکینا فاسو کی ایک اور جگہ ہے۔دوسری ریجن ہے وہاں کے ایک دوست لاجی (Laji) صاحب نے گزشتہ سال ہی بیعت کی تھی۔جب ان کو یہ پتا لگا کہ میں نے عموما یہ تحریک کی ہے کہ نو مبائعین کو کم از کم کسی نہ کسی تحریک میں شامل کریں تا کہ مالی قربانی کی روح ان میں پیدا ہوا اور یہ نہ دیکھیں کہ چندہ کتنا بڑھتا ہے۔رقم کتنی آتی ہے۔صرف یہ ہے کہ عادت ڈالنے کے لئے ہر احمدی کو مالی قربانی میں حصہ لینا چاہئے اور نو مبائعین کو خاص طور پر اس طرف توجہ دلائیں۔بہر حال جب ان کو توجہ دلائی گئی کہ چاہے ایک پنس دیں یا ایک فرانک دیں تو ان نو مبائع نے بھی اس طرف توجہ کی۔وہاں رواج یہ ہے کہ گاؤں کے دیہاتی لوگ ہیں، زمیندارہ کرتے ہیں۔کاشت کرتے ہیں تو بجائے رقم کے وہ اپنی جنس دیتے ہیں اور جنس دینے کے لئے وہ جماعت کو یہ کہتے ہیں کہ ہمیں بوریاں یا کوئی چیز دے دو تا کہ ہم اس میں جنس بھر کے پہنچا دیں۔تو ان کو بھی مربی صاحب نے یا جو بھی جماعت کا نظام تھا انہوں نے دو خالی بوریاں دیں۔ان کو خیال آیا کہ میں احمدی تو اب ہوا ہوں ساری زندگی میں مسلمان رہا ہوں۔چندہ کی تحریک تو کبھی میرے سامنے نہ ہوئی اور نہ میں نے کبھی چندہ دیا۔اب یہ کہتے ہیں کہ خلیفہ وقت نے کہا ہے کہ ضرور چندے میں شامل ہونا چاہئے۔تو میں دیکھتا ہوں کہ اس میں کیا فائدہ ہوتا ہے۔بہر حال انہوں نے وہ اناج دیا جو بائیس ہزار فرانک کا تھا اور اس کے بعد جب فصل آئی تو انہوں نے آ کے بتایا کہ اس سال میری فصل گزشتہ سال سے دوگنی ہو گئی۔چنانچہ اگلے سال وہ دوگنی جنس دینے کے لئے بوریاں لے کر گئے۔لائبیریا کے امیر صاحب بیان کرتے ہیں کہ وہاں کے مربی کیپ ٹاؤن کا ؤنٹی کے دورے پر گئے۔جاتے ہوئے ایک جماعت نگینا (Nagbina) ہے۔ان کو پیغام دیتے گئے کہ نماز مغرب کے وقت ہم آئیں گے۔لیکن اگلی جو جماعت تھی ولور (Vilor) یہاں کافی بڑی جماعت ہے اور بڑی فعال جماعت ہے۔چندہ دینے والے بھی ہیں۔وہاں غیر معمولی تاخیر ہوگئی۔انہوں نے بھی سوچا کہ یہ نگبینا