خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 657
خطبات مسرور جلد 12 657 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 اکتوبر 2014ء ہیں۔مختلف احمد یوں کو مختلف جگہوں پر آئے دن دھمکیاں ملتی رہتی ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ یہ کر دیں گے اور وہ کر دیں گے۔اس لئے بہتر یہ ہے کہ احمدیت سے تو بہ کر کے ہمارے ساتھ شامل ہو جاؤ۔تو ان کی دشمنیاں احمدیت سے ہیں کسی کی ذات سے نہیں۔اور احمدیت سے دشمنی کی وجہ یہ ہے کہ انہیں صاف نظر آ رہا ہے کہ احمدیت کی ترقی اُن کے ذاتی مفادات اور لوگوں کے ان کی طرف رجحان کا زوال ہے۔جس جس طرح احمدی ترقی کرتے جائیں گے یا احمدیت ترقی کرتی جائے گی ان لوگوں کا زوال ہوتا جائے گا۔ان لوگوں کو نظر آ رہا ہے کہ جماعت جس طرح ترقی کر رہی ہے کل ہم پر قبضہ کر لے گی۔اور جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا کہ ان ملکوں میں جو مغربی ممالک ہیں یا ان ممالک میں جو ان کے زیر اثر ہیں جماعت کی ترقی جماعت کے خلاف منصوبہ بندی کی طرف لے جائے گی۔ان کے خیال میں شاید جماعت احمدیہ حکومتوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہے حالانکہ جماعت احمدیہ کا پھیلاؤ ان ملکوں پر قبضہ کرنے والا پھیلاؤ نہیں بلکہ ان میں پہلے سے بڑھ کر امن اور سلامتی کو قائم کرنے کا ذریعہ بنے گا۔مسلمان ممالک میں بھی ہم مسلمانوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کے ساتھ جڑنے کا جو کہتے ہیں تو ان کی دنیاوی تکلیفوں اور فسادوں کو دُور کرنے کے لئے اور ان کے بہتر انجام کے لئے کہتے ہیں۔اسی طرح دنیا کے باقی مذاہب کے لوگوں کو ہم خدا تعالیٰ کے غضب سے بچانا چاہتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دنیا پر اپنا غلبہ دنیا کو اپنے زیر نگین بنانے کے لئے نہیں چاہا تھا، نہ یہ دعا کی تھی کہ یہ غلبہ ہو۔یا آج خلافت کے ساتھ جڑ کر جماعت احمد یہ دنیا میں غلبے کی باتیں حکومتوں پر قبضہ اور دنیا کو زیرنگین کرنے کے لئے نہیں کرتی بلکہ اس کا مقصد خدا تعالیٰ کی حکومت دنیا میں قائم کرنے کے لئے ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک تعلیم کو دنیا میں رائج کرنے کے لئے ہے۔ہمیں ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور اسلام کی تاریخ پر نظر رکھنی چاہئے کہ باوجود آپ کی طرف سے خیر اور بھلائی کے پیغام کے آپ کے خلاف ، آپ کے صحابہ کے خلاف دشمنی کے بازار گرم کئے گئے۔جنگیں ٹھونسی گئیں۔لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قوم کے لئے ہدایت اور رحم ہی مانگا اور حتی الوسع کوشش کی کہ دنیا کو آپ سے خیر ہی ملے۔اور جنگیں اگر لڑ یں تو وہ بھی مجبوری کی صورت میں اور ہر قسم کے ظلموں سے بچتے ہوئے صرف دفاع کے لئے اور اصلاح کے لئے اور یہ بھی ایک طرح سے ان لوگوں کی خیر کے لئے تھا۔بہر حال جو آخری نتیجہ تھا وہ خیر کو حاصل کرنا ہی تھا۔باوجود اس کے جب ہم دیکھتے ہیں مثلاً تو رات میں حضرت اسماعیل کے خلاف حضرت اسحق کی قوم کی مخالفت کا ذکر ملتا ہے۔(ماخوذ از پیدائش باب 16 آیت 12)