خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 654
خطبات مسرور جلد 12 654 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 اکتوبر 2014ء اٹھانے لگ گئے ہیں۔ایسے بھی ہیں جو حق کو حق سمجھ کر تمام تر مخالفتوں کے باوجود احمدیت اور حقیقی اسلام کو قبول کرتے ہیں۔لیکن یہ بھی صاف نظر آ رہا ہے کہ فتنہ وفساد پیدا کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے یا کم از کم ان کے خوف سے شرفاء باہر نہیں نکلتے اور یہ باہر نکل کر جو چاہے کرتے ہیں۔لیکن کیا اس مخالفت کی وجہ سے ہم اپنے کام بند کر سکتے ہیں۔کیا دنیا سے ڈر کر خدا تعالیٰ کے اس حکم کہ خیر کو پھیلا ؤ اس سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو تمام تر مخالفتوں اور شیطانی روکوں کا مقابلہ کرتے ہوئے احمدیت کو قبول کرتے ہیں۔ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اپنی احمدیت کی قبولیت کے واقعات بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ احمدیت کی مخالفت نے ہی انہیں احمدیت قبول کرنے کا راستہ دکھایا۔گزشتہ خطبہ میں ہی میں نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے حوالے سے ایک شاعر کا ایک واقعہ بیان کیا تھا کہ انہوں نے اعتراض تلاش کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور خاص طور پر فارسی درثمین پڑھی اور احمدیت قبول کر لی۔وہ کہتے ہیں کہ مجھ پر یہ روز روشن کی طرح واضح ہو گیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام سے بڑھ کر کوئی اور عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم نظر نہیں آتا۔پس ہم اس یقین پر قائم ہیں کہ ہم جب شر کے بدلے خیر پہنچا ئیں گے تو انہی لوگوں میں سے پھر قطرات محبت بھی ٹیکیں گے اور یہ لوگ مسیح محمدی کی غلامی میں آجائیں گے۔ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو یہ تعلیم دی ہے کہ دشمنوں کے لئے بھی دعا کرو اور ان کے لئے خیر چاہو اور انہیں خیر پہنچاؤ۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 2 صفحہ 74) یہ واقعہ بھی آپ جانتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دلی درد کی تصویر ہے اور گزشتہ خطبہ میں بھی میں نے بیان کیا تھا کہ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے طاعون کو آپ کے نشان کے طور پر بھیجا تھا لیکن جب لوگ مرنے لگے تو پھر آپ کو فکر پیدا ہوئی کہ خدا تعالیٰ کی عبادت کون کرے گا اور ایمان کون لائے گا؟ اس پر آپ نے اس عذاب کے دُور ہونے کے لئے اس درد سے دعا کی کہ سننے والے کہتے ہیں کہ یوں لگتا تھا جیسے دردزہ سے کوئی عورت کراہتی ہے اور تڑپتی ہے۔(ماخوذ از خدا تعالیٰ دنیا کی ہدایت کے لئے ہمیشہ نبی مبعوث فرماتا ہے، انوار العلوم جلد 18 صفحہ 514) پس دنیا والوں کے لئے یہ وہ خیر کا نمونہ اور معیار ہے جو اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق نے ہمارے سامنے رکھا ہے۔آپ نے دنیا کی تباہی کے بجائے دنیا کی خیر چاہی کہ خدا تعالیٰ تمام قدرتوں کا مالک ہے۔وہ بغیر تباہی کے بھی تو ان کے دلوں کی حالت بدل سکتا ہے۔پس ہمارا زور بھی