خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 60 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 60

خطبات مسرور جلد 12 60 خطبه جمعه فرموده مورخہ 31 جنوری 2014ء تو نہ صرف اُن کی اصلاح ہوگی جن کی نگرانی کی جارہی ہے بلکہ نگرانوں کی بھی اصلاح ہو رہی ہو گی۔بہر حال عملی اصلاح کے لئے نگرانی بھی ایک مؤثر ذریعہ ہے۔دوسری بات جو اصلاح کے لئے ضروری ہے جبر ہے۔یہاں کسی کے دل میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ ایک طرف تو ہم کہتے ہیں کہ دین کے معاملے میں جبر نہیں ہے، دوسری طرف عملی اصلاح کے لئے جو علاج تجویز کیا جارہا ہے، وہ جبر ہے۔پس واضح ہو کہ یہ جبر دین قبول کرنے یا دین چھوڑنے کے معاملے میں نہیں ہے۔ہر ایک آزاد ہے، جس دین کو چاہے اختیار کرے اور جس دین کو چاہے چھوڑ دے۔اسلام تو بڑا واضح طور پر یہ اختیار دیتا ہے۔یہاں جبر یہ ہے کہ دین کی طرف منسوب ہو کر پھر اُس کے قواعد پر عمل نہ کرنا اور اُسے توڑنا ، ایک طرف تو اپنے آپ کو نظام جماعت کا حصہ کہنا اور پھر نظام کے قواعد کو توڑنا۔یہ بات اگر ہو رہی ہے تو پھر بہر حال سختی ہوگی اور یہاں جبر سے یہی مراد ہے۔نظام کا حصہ بن کر رہنا ہے تو پھر تعلیم پر بھی عمل کرنا ہو گا۔ورنہ سزا مل سکتی ہے، جرمانہ بھی ہو سکتا ہے، بعض قسم کی پابندیاں بھی عائد ہوسکتی ہیں۔اور ان سب باتوں کا مقصد اصلاح کرنا ہے تا کہ قوت عملی کی کمزوری کو دور کیا جاسکے۔جماعت میں بھی جب نظامِ جماعت سزا دیتا ہے تو اصل مقصد اصلاح ہوتا ہے۔کسی کی سبکی یا کسی کو بلا وجہ تکلیف میں ڈالنا نہیں ہوتا۔یہ جبر حکومتی قوانین میں بھی لاگو ہے۔سزائیں بھی ملتی ہیں، جیلوں میں بھی ڈالا جاتا ہے، جرمانے بھی ہوتے ہیں، بعض دفعہ مارا بھی جاتا ہے۔اور مقصد یہی ہوتا ہے کہ معاشرے میں امن رہے اور جو دوسرے کو نقصان پہنچانے والے ہیں وہ نقصان پہنچانے کا کام نہ کر سکیں بلکہ بعض دفعہ تو اپنے آپ کو نقصان پہنچانے والے کام پر بھی سزامل جاتی ہے۔لیکن اس سزا کے دوران اصلاح کرنے کے مختلف ذرائع استعمال کئے جاتے ہیں۔اگر کسی کو پھانسی بھی دی جاتی ہے تو یہ جب اس لئے ہے کہ قاتل نے ایک جان لی اور قاتلوں کو اگر کھلی چھٹی مل جائے تو پھر معاشرے کا امن برباد ہو جائے اور کئی اور قاتل پیدا ہو جائیں۔پس قتل کی سز اقتل دینے سے کئی ایسے لوگوں کی اصلاح ہو جاتی ہے یا وہ اس کام سے رک جاتے ہیں جو قتل کا رجحان رکھتے ہیں، جو زیادہ جوشیلے ہوتے ہیں۔بہر حال یہ جبر اصلاح کا ایک پہلو ہے جودنیا میں بھی رائج ہے۔دنیا دار کے جبر سے یا دنیاوی سزاؤں کے جبر سے ایمان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔لیکن ایک دین کی طرف منسوب ہونے والے پر جب جبر کیا جاتا ہے اور دینی نظام کے تحت اُس کو سزا دی جاتی ہے یا کسی بھی قسم کی سزا یا جرمانہ ہو، کوئی اور سزا ہو یا بعض پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں۔جماعت میں بعض دفعہ بعض چندے لینے پر پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں تو بیشک جبراً ان کاموں سے روکا جار ہا ہوتا ہے لیکن ساتھ ہی