خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 651
خطبات مسرور جلد 12 651 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 اکتوبر 2014ء کریں۔ہم مسلمانوں کے بھی خیر خواہ ہیں ان کی بھلائی چاہتے ہیں اور غیر مسلموں کے بھی خیر خواہ ہیں اور ان کی بھلائی چاہتے ہیں۔ہم عیسائیوں کے بھی خیر خواہ ہیں اور یہودیوں کے بھی ، ہندوؤں کے بھی اور دوسرے مذاہب والوں کے بھی حتی کہ ہم دہریوں کے بھی خیر خواہ ہیں کیونکہ ہم نے ان سب کو وہ راستہ دکھانا ہے جو انہیں خدا تعالیٰ کے قریب کرنے والا ہو بلکہ ہم نے ہر قسم کے جرائم میں ملوث لوگوں چوروں اور ڈاکوؤں ، ظالموں سب کی خیر خواہی چاہتی ہے اس لئے کہ یہ لوگ رب العالمین کے بندے ہیں اور ہم نے اللہ تعالیٰ کے تمام بندوں کی خیر خواہی چاہتی ہے اور انہیں نیکیوں پر چلنے اور برائیوں سے رکنے کے راستے دکھانے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اُخرجت للناس کہہ کر ہمارا میدانِ عمل بہت وسیع کر دیا ہے۔پس ہم نے دنیا کی بھلائی اور بہتری اور خیر خواہی کے لئے ان کو خدا تک پہنچنے کے صحیح راستے دکھانے ہیں۔انہیں خدا تعالیٰ کے حکموں پر چلنے کی تلقین کرنی ہے۔انہیں یہ بتاتا ہے کہ اس زندگی کا ایک روز خاتمہ ہونے والا ہے اور پھر ہر ایک نے اپنے عمل کے مطابق جزا سزا حاصل کرنی ہے۔پس خدا تعالیٰ سے تعلق جوڑ و تا کہ بہتر انجام ہو۔لیکن یہ باتیں ہم کسی کو اس وقت تک نہیں سمجھا سکتے جب تک ہم خود اپنے انجام پر نظر رکھنے والے نہ ہوں۔پس ایک بہت بڑا کام ہے جسے فکر کے ساتھ اور اپنے جائزے لیتے ہوئے ہم نے سرانجام دینا ہے۔اس کام کی سرانجام دہی کے دوران ہمیں مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا اور کرنا پڑتا ہے اور جماعت احمد یہ کی تاریخ بتاتی ہے کہ ان مشکلات اور دنیا کی مخالفتوں کا ہم ہر قدم پر سامنا کرتے رہے ہیں اور یہ بات کوئی صرف ہمارے ساتھ خاص نہیں بلکہ جتنے بھی نبی آئے انہیں اور ان کے ماننے والوں کو مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن وہ کیونکہ محدود علاقوں اور قوموں کے لئے تھے اس لئے ان کی مخالفتیں بھی محدود تھیں۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مبعوث ہوئے تو آپ تمام دنیا کے لئے مبعوث ہوئے۔اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام دنیا نے مخالفت کی اور مخالفت کر رہی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں یہی کام اور دائرہ کار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بھی ہے۔اس لئے آپ کی مخالفت بھی ہر مذہب اور قوم والے نے کی جب آپ نے دعوی کیا اور اب بھی کر رہے ہیں۔کہیں کم ہے کہیں زیادہ ہے اور کریں گے بھی۔یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا، نہ ہو گا۔دنیا میں بیشک ایسے افراد ہیں جو جماعت احمدیہ کے امن کے کاموں کی تعریف کرتے ہیں لیکن مذہب کے حوالے سے جب غیر معمولی ترقی ملنی شروع ہو جائے تو من حیث القوم مخالفتوں کا سامنا ہمیں مغربی ممالک میں بھی کرنا پڑے گا یا کم از کم یہاں کے جو