خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 649
خطبات مسرور جلد 12 649 44 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 اکتوبر 2014ء خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ السیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 31 اکتوبر 2014 ء بمطابق 31 اخاء 1393 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (آل عمران: 111) یعنی تم وہ لوگ ہو جو دوسروں کی بھلائی اور فائدہ کے لئے پیدا کئے گئے ہو۔یہ مسلمانوں کے کاموں میں سے ایک بہت بڑا کام ہے کہ دنیا ان سے فائدہ اٹھائے۔ان سے دنیا کو خیر اور بھلائی پہنچے نہ کہ شر لیکن اس وقت دنیا کی جو حالت ہے جس پر ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان حکومتوں اور گروہوں اور تنظیموں نے دنیا میں اس قدر فساد برپا کیا ہوا ہے کہ ایک دنیا اسلام کے نام اور مسلمان سے خوفزدہ ہے۔اور اگر خوفزدہ ہونے کی حالت ہو تو پھر کون ہے جو مسلمانوں کی باتوں کو سنے یا یہ خیال کرے کہ ان سے ہمیں خیر اور بھلائی مل سکتی ہے۔جو لوگ اپنے لوگوں کی ہی گردنیں کاٹ رہے ہوں، معصوموں کو ، عورتوں کو ، بچوں کو، بوڑھوں کو بلا امتیاز قتل کر رہے ہوں، بغیر کسی وجہ کے ناجائز طور پر اپنے نظریات کی پیروی نہ کرنے والوں کو غلام بنا رہے ہوں، ان سے کس طرح امید کی جاسکتی ہے کہ وہ غیر مسلموں کے لئے خیر اور بھلائی چاہنے والے ہوں گے۔پس اس عمل کا جو یہ لوگ کرتے ہیں لازمی نتیجہ یہی نکلے گا اور نکل رہا ہے کہ دنیا مسلمانوں سے خوفزدہ ہے لیکن ہم احمدیوں کے لئے اس میں شرمندگی کی بات اور غم اور تکلیف کی بات تو ضرور ہے کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو رحمۃ للعالمین ہیں ان کی طرف منسوب ہو کر ان لوگوں کے یہ عمل ہیں کہ انہوں نے مذہب اسلام کو بھی بدنام کیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک اُسوہ کو بھی دنیا کے سامنے غلط رنگ میں پیش کرنے والے بن رہے ہیں۔لیکن ایک احمدی کی حیثیت سے ہمیں ان کے اس