خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 645
خطبات مسرور جلد 12 645 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اکتوبر 2014ء تھا۔آج حسن اتفاق سے ہمیں شیطان مل گیا ہے ( جو ورغلا رہا ہے۔) (ماخوذ از الفضل ربوہ 31 اگست 1956 صفحه 5_6 نمبر 204 جلد 45/10) پھر ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل بھی دریا کی طرح ہوتے ہیں اور دریا میں سے ایک قطرہ پانی کا لے لیا جائے تو اس میں کیا کمی آسکتی ہے۔مگر بندہ ہی ایسا بد قسمت ہے کہ وہ خود خدا کے انعامات سے اپنے آپ کو محروم کر لیتا ہے اور ان کی طرف سے منہ موڑ کر بیٹھ جاتا ہے اور جب کوئی مامور آتا ہے تو لوگ اس کو حقیر سمجھ کر اس کا انکار کرنا شروع کر دیتے ہیں“۔پھر لکھتے ہیں کہ حضرت باوانانک کے ماں باپ بھی ان کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور کہتے تھے کہ اس نے ہماری دکانداری خراب کر دی ہے اور ہمارے گھر میں یہ بچ نکما پیدا ہوا ہے۔اگر ان کے ماں باپ زندہ ہو کر آج دنیا میں آجائیں اور دیکھیں کہ وہی بچہ جسے ہم حقیر سمجھتے تھے اب لاکھوں آدمی اس پر فدا ہیں اور اس کے نام پر جان دینے کیلئے تیار بیٹھے ہیں اور ان میں کئی کروڑ پتی موجود ہیں تو وہ حیران رہ جائیں۔مگر لوگ بیوقوفی سے سمجھ لیا کرتے ہیں کہ یہ چھوٹا آدمی ہے اسے ہم نے مان کر کیا کرنا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ ایسے ہی آدمیوں کو بھیجتا ہے جو بظاہر چھوٹے معلوم ہوتے ہیں اور ایک زمانہ آتا ہے کہ ان کے نام پر مر مٹنے والے لاکھوں لوگ پیدا ہو جاتے ہیں۔فرمایا کہ اسی طرح قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا۔قادیان میں نہ تو پہلے ریل تھی، نہ ڈاکخانہ تھا، نہ کوئی دینی یاد نیوی علوم کا مدرسہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی کوئی دنیاوی وجاہت نہ رکھتے تھے اور بظاہر آپ نے جو تعلیم حاصل کی تھی وہ بھی معمولی تھی۔اس لئے جب آپ نے مسیحیت اور مہدویت کا دعوی کیا تو لوگوں نے شور مچادیا کہ نعوذ باللہ یہ شخص جاہل ہے۔یہ شخص کیسے مہدی ہو سکتا ہے۔پھر لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ اس چھوٹے سے گاؤں میں کیسے مامور آسکتا ہے۔اگر مامور آنا ہی تھا تو لاہور ، امرتسر یا اس طرح کے کسی بڑے شہر میں آنا چاہئے تھے۔غرض لوگوں نے زبر دست مخالفت شروع کی اور جو لوگ آپ کے دعوی کو سن کر آپ کی زیارت کیلئے قادیان آنے کا ارادہ کرتے تھے ان کو بھی روکا جا تا تھا۔اگر وہ نہ رکھتے تھے تو انہیں طرح طرح کی تکلیفیں دی جاتی تھیں۔ان کو قسم قسم کی مصیبتوں اور دکھوں میں مبتلا کر دیا جاتا تھا۔مگر ان تمام حالات کی موجودگی میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا “۔یہ الہام آپ کو اس وقت ہوا جب آپ کو ایک آدمی بھی نہ مانتا تھا۔پھر یہ الہام ہوا کہ ”میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا“۔اس