خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 642 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 642

خطبات مسرور جلد 12 642 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اکتوبر 2014ء صاحب رام پور نے انہیں اردو محاورات کی لغت لکھنے پر مقرر کیا ہوا تھا۔انہوں نے بتایا کہ نواب صاحب رام پور کے پاس مشہور شاعر مینائی کے مسودات پڑے ہوئے تھے۔انہوں نے اردو کی ایک بڑی بھاری لغت لکھی ہوئی تھی مگر ابھی اسے مکمل نہیں کیا تھا کہ نواب صاحب وفات پاگئے۔(ان کے جانشین ) نواب صاحب رام پور نے وہ مسودات مجھے دیئے ہیں اور کہا ہے کہ تم انہیں مکمل کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے پوچھا کہ رام پور میں تو ہماری بڑی مخالفت ہے اور آپ وہاں کے رہنے والے ہیں۔آپ کو بیعت کرنے کی توجہ کیسے ہوئی؟ وہ کہنے لگے مجھے کسی نے در ثمین دی تھی۔میں چونکہ خود شاعر ہوں۔میں نے آپ کا کلام پڑھا جس کی وجہ سے میں بہت متاثر ہوا کیونکہ اس میں محبت رسول بھری پڑی تھی۔اس کے بعد مولوی ثناء اللہ صاحب وہاں آئے اور انہوں نے ایک تقریر کی۔اس تقریری میں انہوں نے بتایا کہ مرزا صاحب اسلام کے سخت دشمن ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں۔میں نے ان کی تقریریں سن کر سمجھا کہ مرزا صاحب ضرور بچے ہیں ورنہ ان مولوی صاحب کو آپ کے متعلق اتنا جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی۔جس شخص کے اندر اس قدر محبت رسول ہے کہ اس کا کلام اس سے بھرا پڑا ہے اس کے متعلق اگر کوئی مولوی کہتا ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سخت دشمن ہے تو وہ مولوی یقینا جھوٹا ہے۔اور جس شخص پر وہ ہتک رسول کا الزام لگا تا ہے وہ سچا ہے ورنہ اس تقریر کرنے والے کو جھوٹے دلائل دینے کی کیا ضرورت تھی۔وہ سچی بات کہتا کہ اگر چہ اس شخص نے درثمین میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی تعریف کی ہے، خدا تعالیٰ کی بڑی تعریف کی ہے مگر ہے جھوٹا۔اگر وہ ایسا کہتا تو پھر کوئی بات نہیں تھی۔لیکن اس نے سچائی کو بالکل ترک کر دیا اور کہا کہ یہ شخص خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق بدگوئی کرتا ہے۔میں نے اس کی تقریر سنی تو فور سمجھ لیا کہ مرزا صاحب اپنے دعوے میں سچے ہیں اور میں آپ کی بیعت کیلئے تیار ہو گیا۔تو حقیقت یہ ہے کہ بسا اوقات دشمن تو یہ کوشش کرتا ہے کہ مومن کے خلاف لوگوں میں جوش پیدا کرے لیکن بجائے جوش ابھرنے کے وہ بات مومنوں کے حق میں مفید ہو جاتی ہے۔اسی طرح کا ایک پرانا شروع کا، ابتدائی زمانے کا واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ گجرات کے ضلع میں چک سکندر کے قریب بھاؤ گھسیٹ پور ایک گاؤں ہے جہاں حضرت مسیح موعود د علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں چند نہایت ہی مخلص بھائی رہا کرتے تھے۔لکھتے ہیں کہ ”میں اس وقت چھوٹا تھا مگر مجھے خوب یاد ہے کہ وہ بڑے شوق سے حضرت مسیح موعود د علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں آکر بیٹھا کرتے تھے اور بڑے محظوظ ہوا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک سالے تھے ( یعنی بیوی کے