خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 641 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 641

خطبات مسرور جلد 12 641 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اکتوبر 2014ء انسان کو اپنے نفس کی کمزوری کا محاسبہ کرنا چاہئے۔ایسے شخص کیلئے روحانیت کے راستے کھل جاتے ہیں۔جو ایسا نہیں کرتا اس کے لئے روحانیت کے راستے مسدود ہو جاتے ہیں اور ایسا انسان گمراہ ہو جاتا ہے۔“ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 18 صفحه 141-142) مخالفت جو جماعت کی ہوتی ہے، نبی کی ہوتی ہے، یہ ترقی کا ذریعہ بنتی ہے۔اس بارے میں لکھتے ہیں کہ " حضرت مسیح موعود د علیہ الصلوۃ والسلام سے کئی دفعہ ہم نے ایک واقعہ سنا ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ دشمن جب ہمیں گالیاں دیتے ہیں اور مخالفت کرتے ہیں تو ہمیں امید ہوتی ہے کہ ان میں سے سعید روحیں ہماری طرف آجائیں گی۔لیکن جب نہ تو لوگ ہمیں گالیاں دیتے ہیں اور نہ ہی مخالفت کرتے ہیں اور بالکل خاموش ہو جاتے ہیں تو یہ بات ہمارے لئے تکلیف دہ ہوتی ہے۔آپ ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) فرمایا کرتے تھے کہ نبی کی مثال اس بڑھیا کی سی ہوتی ہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ وہ کچھ پاگل سی تھی اور شہر کے بچے اسے چھیڑا کرتے تھے اور وہ انہیں گالیاں اور بددعائیں دیا کرتی تھی۔آخر بچوں کے ماں باپ نے یہ تجویز کی کہ بچوں کو روکا جائے کہ وہ بڑھیا کو دق نہ کیا کریں۔چنانچہ انہوں نے بچوں کو سمجھایا۔مگر بچے تو بچے تھے وہ کب باز آنے والے تھے۔یہ تجویز بھی کارگر ثابت نہ ہوئی۔آخر بچوں کے والدین نے یہ فیصلہ کیا کہ بچوں کو باہر نہ نکلنے دیا جائے اور دروازوں کو بند رکھا جائے۔چنانچہ انہوں نے اس پر عمل کیا اور دو تین دن تک بچوں کو باہر نہ نکلنے دیا۔اس بڑھیا نے جب دیکھا کہ اب بچے اسے تنگ نہیں کرتے تو وہ گھر گھر جاتی اور کہتی کہ تمہارا بچہ کہاں گیا ہے؟ کیا اسے سانپ نے ڈس لیا ہے؟ کیا وہ ہیضے سے مرگیا ہے؟ کیا اس پر چھت گر پڑی ہے؟ کیا اس پر بجلی گر گئی ہے؟ غرض وہ ہر دروازے پر جاتی اور قسم قسم کی باتیں کرتی۔آخر لوگوں نے سمجھا کہ بڑھیا نے تو پہلے سے بھی زیادہ گالیاں اور بددعائیں دینا شروع کر دی ہیں۔اس لئے بچوں کو بند رکھنے کا کیا فائدہ۔انہوں نے بچوں کو چھوڑ دیا۔آپ فرما یا کرتے تھے کہ یہی حالت نبی کی ہوتی ہے۔جب مخالفت تیز ہوتی ہے تب بھی اسے تکلیف ہوتی ہے اور جب مخالف چپ کر جاتے ہیں تب بھی اسے تکلیف ہوتی ہے کیونکہ جب تک مخالفت نہ ہولوگوں کی توجہ الہی سلسلے کی طرف نہیں ہو سکتی“۔(ماخوذ از رسول کریم سال پی پی کی زندگی کے تمام اہم واقعات۔۔۔۔انوار العلوم جلد 19 صفحہ 152) نبی کی طرف سے گالیاں تو نہیں آتیں۔نبی کی طرف سے تو ہر صورت میں دعا ئیں ملتی ہیں لیکن مخالفت جب تیز ہوتی ہے تو مخالفین کے لئے بھی دعائیں ہوتی ہیں تاکہ ان میں سے سعید روحیں پھر حق کو قبول بھی کر لیں۔پھر مخالفت ترقی کا ذریعہ ہے۔اس بارے میں کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس ایک مولوی صاحب آئے۔وہ شاعر بھی تھے اور بڑے مشہور ادیب بھی تھے۔نواب