خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 640
خطبات مسرور جلد 12 640 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اکتوبر 2014ء آپ کے منہ سے سنی ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ اگر دنیا میں سارے ( حضرت ) ابوبکر" جیسے لوگ ہوتے تو اتنے بڑے قرآن شریف کی ضرورت نہیں تھی۔صرف بسم اللہ کی ”ب“ کافی تھی۔قرآن کریم کا اتنا پر معارف کلام جو نازل ہوا ہے یہ ابو جہل کی وجہ سے ہے۔اگر ابو جہل جیسے انسان نہ ہوتے تو اتنے مفضل قرآن شریف کی ضرورت نہ تھی۔غرض قرآن کریم تو خدا تعالیٰ کا کلام ہے۔اس پر جتنے اعتراضات ہوں گے اتنی ہی اس کلام کی خوبیاں ظاہر ہوں گی۔پس یہ ڈر کہ اعتراض مضبوط ہو گا تو اس کا جواب کس طرح دیا جائے گا ایک شیطانی وسوسہ ہے۔کیا خدا کے کلام نے ہمارے ایمان کی حفاظت کرنی ہے یا ہم نے خدا کے کلام کی حفاظت کرنی ہے؟ وہ کلام جس کو اپنے بچاؤ کیلئے انسان کی ضرورت ہے وہ جھوٹا کلام ہے اور چھوڑ دینے کے لائق ، ہمارے کام کا نہیں۔ہمارے کام کا وہی قرآن شریف ہے جس کی حفاظت کیلئے کسی انسان کی ضرورت نہ ہو بلکہ اس کا محافظ خدا ہو اور اس پر جو اعتراض ہو وہ خود اس کو دور کرے اور اپنی عظمت آپ ظاہر کرے۔ہمارا قرآن کریم ایسا ہی ہے۔قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید، انوارالعلوم جلد 18 صفحہ 160 ) پھر نفس کی کمزوری کا محاسبہ کس طرح ہونا چاہئے۔یعنی کہ اپنے نفس پر آپ کو کنٹرول ہونا چاہئے۔اس بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہی ایک واقعہ ہے کہ ایک دفعہ لاہور کی ایک گلی میں ایک شخص نے آپ کو دھکا دیا۔آپ گر گئے جس سے آپ کے ساتھی جوش میں آگئے اور قریب تھا کہ اسے مارتے لیکن آپ نے فرمایا کہ اس نے اپنے جوش میں سچائی کی حمایت میں ایسا کیا ہے۔اسے کچھ نہ کہو۔پس انبیاء اپنے نفس کے سوال کی وجہ سے نہیں بولتے بلکہ خدا کی عزت کے قیام کیلئے بولتے ہیں۔تو یہ نہیں خیال کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی بھی ایسا ہی کرتے ہیں ( جس طرح عام لوگ کرتے ہیں )۔ان میں اور عام لوگوں میں بڑا فرق ہوتا ہے۔وہ خدا کیلئے کرتے ہیں اور عام لوگ اپنے لئے کرتے ہیں۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت معاویہ کی نماز کا واقعہ بیان کیا کرتے تھے کہ ان سے ایک مرتبہ فجر کی نماز قضاء ہو گئی لیکن وہ اس غلطی کے نتیجے میں نیچے نہیں گرے بلکہ ترقی کی۔پس جو گناہ کا احساس کرتا ہے وہ گناہ سے بچتا ہے۔جب گناہ کا احساس نہیں رہتا تو انسان معصیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔پس مومن کو اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ پر غور کرنا چاہئے اور سمجھنا چاہئے کہ وہ خطرات سے محفوظ نہیں ہوا۔صرف اسی وقت محفوظ ہو سکتا ہے کہ جب خدا کی آواز اسے کہہ دے۔پس