خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 637
خطبات مسرور جلد 12 637 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اکتوبر 2014ء کے مجھے جگر کی خرابی کا بھی مرض تھا اور چھ چھ مہینے مونگ کی دال کا پانی یا ساگ کا پانی مجھے دیا جاتارہا۔(جگر کی خرابی کیلئے بھی یہ علاج اچھا ہے مونگ کی دال کا پانی یا ساگ کا پانی )۔پھر اس کے ساتھ تلی بھی بڑھ گئی تھی۔اس کیلئے بھی علاج ہوتا تھا اور پھر آنکھوں کے سگرے۔کافی بیماریاں تھیں۔پھر اس کے ساتھ بخار بھی شروع ہو جاتا تھا جو چھ چھ مہینے تک نہ اترتا تھا۔تو کہتے ہیں ” میری پڑھائی کے متعلق بزرگوں کا فیصلہ کر دینا کہ یہ جتنا پڑھنا چاہے پڑھ لے اس پر زیادہ زور نہ دیا جائے۔ان حالات سے ہر شخص اندازہ لگا سکتا ہے کہ میری تعلیمی قابلیت کا کیا حال ہوگا۔ایک دفعہ ہمارے ناناجان حضرت میر ناصر نواب رضی اللہ عنہ نے میرا اردو کا امتحان لیا۔میں اب بھی بہت بدخط ہوں۔( لکھائی اچھی نہیں۔مگر اس زمانے میں میرا اتنا بدخط تھا کہ پڑھا ہی نہیں جاتا تھا کہ میں نے کیا لکھا ہے۔انہوں نے بڑی کوشش کی کہ پتا لگائیں میں نے کیا لکھا ہے مگر انہیں کچھ پتا نہ چلا۔ان کی طبیعت بڑی تیز بھی غصے میں فوڈ احضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس پہنچے۔میں بھی اتفاقاً اس وقت گھر میں ہی تھا۔ہم تو پہلے ہی ان کی طبیعت سے ڈرا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس شکایت لیکر پہنچے تو اور بھی ڈر پیدا ہوا کہ اب نا معلوم کیا ہو۔خیر میر صاحب آگئے اور حضرت صاحب سے کہنے لگے کہ محمود کی تعلیم کی طرف آپ کو ذرا بھی توجہ نہیں ہے۔میں نے اس کا اردو کا امتحان لیا۔آپ ذرا پر چہ تو دیکھیں۔اس کا اتنا برا خط ہے کہ کوئی بھی اس کا خط نہیں پڑھ سکتا۔پھر اسی جوش کی حالت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے یہ کہنے لگے کہ آپ بالکل پرواہ نہیں کرتے اور لڑکے کی عمر برباد ہو رہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب میر صاحب کو اس طرح جوش کی حالت میں دیکھا تو فرمایا۔بلاؤ حضرت مولوی صاحب کو۔جب آپ کو کوئی مشکل پیش آتی تھی تو آپ ہمیشہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو بلا لیا کرتے تھے۔حضرت خلیفہ اول کو مجھ سے بڑی محبت تھی۔آپ تشریف لائے اور حسب معمول سر نیچا ڈال کر ایک طرف کھڑے ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے سر اٹھا کر نہیں دیکھا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔” مولوی صاحب! میں نے آپ کو اس غرض کے لئے بلایا ہے کہ میر صاحب کہتے ہیں کہ محمود کا لکھا ہوا پڑھا نہیں جاتا۔میرا جی چاہتا ہے کہ اس کا امتحان لے لیا جائے۔یہ کہتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قلم اٹھائی اور دو تین سطر میں ایک عبارت لکھ کر مجھے دی اور فرما یا کہ اس کو نقل کرو۔بس یہ امتحان تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لیا۔میں نے بڑی احتیاط سے اور سوچ سمجھ کر نقل کر دیا۔اول تو عبارت کوئی زیادہ لمبی نہیں تھی۔دوسرے میں نے صرف نقل کرنا تھا اور نقل کرنے میں تو اور بھی زیادہ آسانی ہوتی ہے۔کیونکہ