خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 636
خطبات مسرور جلد 12 636 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اکتوبر 2014ء زور نہ دیا جائے کیونکہ اس کی صحت اس قابل نہیں کہ یہ پڑھائی کا بوجھ برداشت کر سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بارہا مجھے صرف یہی فرماتے تھے کہ تم قرآن کا ترجمہ اور بخاری حضرت مولوی صاحب سے ( یعنی حضرت خلیفہ اول سے ) پڑھ لو۔اس کے علاوہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ کچھ طب بھی پڑھ لو کیونکہ یہ ہمارا خاندانی فن ہے۔فرماتے ہیں کہ ماسٹر فقیر اللہ صاحب جن کو اللہ تعالیٰ نے اسی سال ہمارے ساتھ ملنے کی توفیق عطا فرمائی ہے ( یہ پہلے کچھ عرصے کیلئے غیر مبائع میں علیحدہ ہو گئے تھے۔) تو فرماتے ہیں کہ وہ ہمارے حساب کے استاد تھے اور لڑکوں کو سمجھانے کیلئے بورڈ پر سوالات حل کیا کرتے تھے لیکن مجھے اپنی نظر کی کمزوری کی وجہ سے بورڈ دکھائی نہیں دیتا تھا کیونکہ جتنی دور بورڈ تھا اتنی دور تک میری بینائی کام نہیں کر سکتی تھی۔پھر زیادہ دیر تک میں بورڈ کی طرف یوں بھی دیکھ نہیں سکتا تھا کیونکہ نظر تھک جاتی تھی۔اس وجہ سے میں کلاس میں بیٹھنا فضول سمجھا کرتا تھا۔کبھی جی چاہتا تو چلا جاتا اور کبھی نہ جاتا۔ماسٹر فقیر اللہ صاحب نے ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس میرے متعلق شکایت کی کہ حضور یہ کچھ نہیں پڑھتا۔کبھی مدر سے میں آجاتا ہے اور کبھی نہیں آتا۔مجھے یاد ہے جب ماسٹر صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس یہ شکایت کی تو میں ڈر کے مارے چھپ گیا کہ معلوم نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کس قدر ناراض ہوں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے جب یہ بات سنی تو آپ نے فرمایا کہ (ماسٹر فقیر اللہ صاحب !) آپ کی بڑی مہربانی ہے جو آپ بچے کا خیال رکھتے ہیں اور مجھے آپ کی بات سن کر بڑی خوشی ہوئی کہ یہ کبھی کبھی مدرسہ چلا جاتا ہے ورنہ میرے نزدیک تو اس کی صحت اس قابل نہیں کہ پڑھائی کر سکے۔پھر ہنس کر فرمانے لگے اس سے ہم نے آٹے دال کی دکان تھوڑی کھلوانی ہے کہ اسے حساب سکھا یا جائے۔حساب اسے آئے نہ آئے کوئی بات نہیں۔آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے صحابہ نے کون سا حساب سیکھا تھا۔اگر یہ مدرسے میں چلا جائے تو اچھی بات ہے ورنہ اسے مجبور نہیں کرنا چاہئے۔حساب کی بھی بات بتادوں کہ حضرت مصلح موعود کا بعد میں حساب ایسا تھا کہ تقریر کے دوران ہی لاکھوں کی ضر میں تقسیمیں کر کے حساب سامنے رکھ دیا کرتے تھے۔بہر حال فرماتے ہیں کہ ” یہ سن کر ماسٹر صاحب واپس آگئے۔میں نے اس نرمی سے اور بھی فائدہ اٹھانا شروع کر دیا اور پھر مدرسے میں جانا ہی چھوڑ دیا۔کبھی مہینے میں ایک آدھ دفعہ چلا جاتا تو اور بات تھی غرض اس رنگ میں میری تعلیم ہوئی اور میں در حقیقت مجبور بھی تھا کیونکہ بچپن میں علاوہ آنکھوں کی تکلیف