خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 635 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 635

خطبات مسرور جلد 12 635 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اکتوبر 2014ء دن غیر معمولی طور پر زیادہ لوگ آئے تھے۔بہر حال یہ ایک واقعہ ہوا ہے جس کا آج تک میرے قلب پر گہرا اثر ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نماز با جماعت کا کتنا خیال رہتا تھا“۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 9 صفحہ 164 -163) پھر آپ اپنے بچپن کا ایک ہلکا پھلکا واقعہ اپنی تحریر کے بارے میں اور تعلیم کے بارے میں بھی بیان فرماتے ہیں۔لکھتے ہیں کہ ” میری تعلیم کے سلسلہ میں مجھ پر سب سے زیادہ احسان حضرت خلیفہ اسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کا ہے۔آپ چونکہ طبیب بھی تھے اور اس بات کو جانتے تھے کہ میری صحت اس قابل نہیں کہ میں کتاب کی طرف زیادہ دیر تک دیکھ سکوں۔اس لئے آپ کا طریق تھا کہ آپ مجھے اپنے پاس بٹھا لیتے اور فرماتے۔میاں میں پڑھتا جاتا ہوں تم سنتے جاؤ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ بچپن میں میری آنکھ میں سخت لگرے پڑ گئے تھے اور متواتر تین چار سال تک میری آنکھیں دکھتی رہیں اور ایسی شدید تکلیف گروں کی وجہ سے پیدا ہوگئی کہ ڈاکٹروں نے کہا کہ اس کی بینائی ضائع ہو جائے گی۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میری صحت کیلئے خاص طور پر دعائیں کرنی شروع کر دیں اور ساتھ ہی آپ نے روزے رکھنے شروع کر دیئے۔مجھے اس وقت یاد نہیں کہا آپ نے کتنے روزے رکھے۔بہر حال تین یا سات روزے آپ نے رکھے۔جب آخری روزے کی افطاری کرنے لگے اور روزہ کھولنے کیلئے منہ میں کوئی چیز ڈالی تو ( مصلح موعود کہتے ہیں کہ اس وقت ) یکدم میں نے آنکھیں کھول دیں اور میں نے آواز دی کہ مجھے نظر آنے لگ گیا ہے۔لیکن اس بیماری کی شدت اور اس کے متواتر حملوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ میری ایک آنکھ کی بینائی ماری گئی۔چنانچہ میری بائیں آنکھ میں بینائی نہیں ہے۔میں رستہ تو دیکھ سکتا ہوں مگر کتاب نہیں پڑھ سکتا۔دو چارفٹ پر کوئی ایسا آدمی بیٹھا ہو جو میرا پہچانا ہوا ہو تو میں اس کو دیکھ کر پہچان سکتا ہوں لیکن اگر کوئی بے پہچانا بیٹھا ہوا ہو تو مجھے اس کی شکل نظر نہیں آسکتی۔صرف دائیں آنکھ کام کرتی ہے مگر اس میں بھی لگرے پڑ گئے اور وہ ایسے شدید ہو گئے کہ کئی کئی راتیں میں جاگ کر کاٹا کرتا تھا۔حضرت مسیح موعود وعلیہ الصلوۃ والسلام نے میرے استادوں سے کہہ دیا تھا کہ پڑھائی اس کی مرضی پر ہوگی“۔(اب دیکھیں اس میں پیشگوئی حضرت مصلح موعود کا بھی ایک پہلو نکلتا ہے کہ باوجود سب کچھ کے، اس بیماری کے اللہ تعالیٰ نے جو فر ما یا تھا' علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا ، وہ بھی کس طرح اللہ تعالیٰ نے پر کیا ہے۔آپ نے ایک جگہ لکھا ہوا ہے کہ میں نے لاکھوں کتابیں پڑھی ہوئی ہیں۔اور بڑی جلدی پڑھ لیا کرتے تھے۔) بہر حال فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح وعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ جتنا پڑھنا چاہے پڑھے۔اگر نہ پڑھے تو اس پر