خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 634 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 634

خطبات مسرور جلد 12 634 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اکتوبر 2014ء محض اس لئے انتہائی عزت کرتا تھا کہ انگریز کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی بجائے اس نے اپنی زندگی مردانہ وار شار کر دی۔کیسے ممکن ہے کہ ایسے غیور انسان کے متعلق کسی غیر قوم کے ایجنٹ ہو نے کا واہمہ تک بھی دل میں لایا جائے۔(ماخوذ از سوانح فضل عمر جلد اول صفحہ 78 شائع کردہ فضل عمر فاؤنڈیشن) پھر ایک جگہ آپ بیان فرماتے ہیں کہ ” میرے نزدیک ان ماں باپ سے بڑھ کر کوئی دشمن نہیں جو بچوں کو نماز با جماعت ادا کرنے کی عادت نہیں ڈالتے مجھے اپنا ایک واقعہ یاد ہے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام) کچھ بیمار تھے اس لئے جمعہ کیلئے مسجد میں نہ جا سکے میں اس وقت بالغ نہیں ہوا تھا کہ بلوغت والے احکام مجھ پر جاری ہوں۔( چھوٹا تھا۔بچہ تھا۔تاہم میں جمعہ پڑھنے کیلئے مسجد کو آرہا تھا کہ ایک شخص مجھے ملا اس وقت کی عمر کے لحاظ سے تو شکل اس وقت تک یاد نہیں رہ سکتی مگر واقعہ کا اثر مجھ پر ایسا ہوا کہ اب تک مجھے اس شخص کی صورت یاد ہے محمد بخش ان کا نام ہے وہ اب قادیان میں ہی رہتے ہیں۔میں نے ان سے پوچھا۔آپ واپس آرہے ہیں۔کیا نماز ہوگئی ہے؟ تو انہوں نے کہا۔آدمی بہت ہیں۔مسجد میں جگہ نہیں تھی۔میں واپس آ گیا۔میں بھی یہ جواب سن کر واپس آ گیا اور گھر میں آکر نماز پڑھ لی حضرت صاحب نے یہ دیکھ کر مجھ سے پوچھا مسجد میں نماز پڑھنے کیوں نہیں گئے ؟ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ میں بچپن سے ہی حضرت صاحب کا ادب ان کے نبی ہونے کی حیثیت سے کرتا تھا۔میں نے دیکھا کہ آپ کے پوچھنے میں ایک سختی تھی اور آپ کے چہرہ سے غصہ ظاہر ہوتا تھا۔آپ کے اس رنگ میں پوچھنے کا مجھ پر بہت اثر ہوا۔جواب میں میں نے کہا کہ میں گیا تو تھا لیکن جگہ نہ ہونے کی وجہ سے واپس آ گیا۔آپ یہ سن کر خاموش ہو گئے۔لیکن جس وقت جمعہ پڑھ کر مولوی عبد الکریم صاحب آپ کی طبیعت کا حال پوچھنے کیلئے آئے تو سب سے پہلی بات جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ سے دریافت کی وہ یہ تھی کہ کیا آج لوگ مسجد میں لوگ زیادہ تھے؟ اس وقت میرے دل میں سخت گھبراہٹ پیدا ہوئی کیونکہ میں خود تو مسجد میں گیا نہیں تھا۔معلوم نہیں بتانے والے کو غلطی لگی یا مجھے اس کی بات سمجھنے میں غلط فہمی ہوئی۔میں ان کی بات سے یہ سمجھا تھا کہ مسجد میں جگہ نہیں۔مجھے فکر یہ ہوئی کہ اگر مجھے غلط نہی ہوئی ہے یا بتانے والے کو ہوئی ہے، دونوں صورتوں میں الزام مجھ پر آئے گا کہ میں نے جھوٹ بولا۔مولوی عبد الکریم صاحب نے جواب دیا کہ ہاں حضور ! آج واقعہ میں بہت لوگ تھے۔میں اب بھی نہیں جانتا کہ اصلیت کیا تھی۔خدا نے میری بڑیت کیلئے یہ سامان کر دیا کہ مولوی صاحب کی زبان سے بھی اس کی تصدیق کرادی یا فی الواقعہ اس