خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 629 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 629

خطبات مسرور جلد 12 629 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 اکتوبر 2014ء کرنے کے عہد کا صحیح ادراک بھی حاصل کریں اور اس پر عمل کرنے والے بھی ہوں۔آج بھی ایک افسوسناک خبر ہے۔پاکستان میں ایک شہادت ہوئی ہے۔مکرم لطیف عالم بٹ صاحب ابن مکرم خورشید عالم بٹ صاحب آف کامرہ ضلع اٹک کو 15 اکتوبر کی رات کو تقریباً سات بجے ان کے گھر کے قریب دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔واقعہ یہ ہوا کہ گھر کے قریب ہی ان کی ایک سٹیشنری کی دکان ہے۔معمول کے مطابق واپس آ رہے تھے اپنے گھر کے قریب گلی میں پہنچے تھے کہ پیچھے سے دونامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے انہیں بٹ صاحب کہہ کے آواز دی۔جیسے ہی یہ واپس مڑے ہیں تو ایک شخص نے ان پر فائز کر دیا اور فائرنگ کے نتیجے میں چار پانچ گولیاں شہید مرحوم کے سینے میں لگیں۔فائرنگ کے بعد ان کے بیٹے ذیشان بٹ صاحب کو کسی نے اطلاع دی تو وہ فوری موقع پر پہنچے۔بہر حال ریسکیو والے بھی پہنچ گئے تھے۔لطیف بٹ صاحب اس وقت ہوش میں تھے مگر سول ہسپتال اٹک جاتے ہوئے راستے میں جام شہادت نوش فرمایا۔اِنَّا لِلهِ وَاِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ لطیف عالم بٹ صاحب کے خاندان کا تعلق کا مونکی ضلع گوجرانوالہ سے تھا۔شہید مرحوم کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ ان کے والد مکرم خورشید عالم بٹ صاحب کے ذریعہ ہوا جن کو 1934ء میں بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شامل ہونے کی توفیق ملی۔شہید مرحوم اپریل 1952ء میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ایف۔اے تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایئر فورس میں بھرتی ہو گئے۔شہید مرحوم کامرہ ایئر فورس سے کارپورل (Corporal) ٹیکنیشن کے رینک سے 1991ء میں ریٹائر ہوئے۔اب ان کا بڑا بیٹا عزیزم خرم بٹ بھی ایئر فورس میں ملازمت کر رہا ہے۔ریٹائرمنٹ کے بعد شہید مرحوم کتابوں کا کاروبار کرتے تھے زیادہ قانونی کتابوں کا تھا۔اور پاکستان کی مختلف کچہریوں میں وکلاء کو کتب دیا کرتے تھے اور بڑے مشہور تھے۔غیر احمدی وکلاء بھی ان کے بڑے معترف تھے۔شہید مرحوم شہادت کے وقت بطور ناظم اشاعت انصار اللہ کے عہدے پر خدمت کی توفیق پارہے تھے۔اس کے علاوہ شہید مرحوم کو ضلعی سطح پر سیکرٹری ضیافت اور خدام الاحمدیہ میں ناظم صحت جسمانی کے طور پر بھی خدمت کی توفیق ملی۔شہید مرحوم کا گھر لمبے عرصے سے نماز سینٹر ہے۔اس کے علاوہ جماعت کے دیگر پروگرام جلسے اجلاسات اور میٹنگ بھی ان کے گھر منعقد ہوتی تھیں۔شہید مرحوم ہمیشہ جماعتی خدمت کے لئے تیار رہتے اور جو کام بھی سپر د کیا جاتا اسے بڑی خوش اسلوبی سے انجام دیا کرتے۔کبھی انکار نہیں کرتے تھے۔شہید مرحوم بہت مہمان نواز تھے۔