خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 627 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 627

خطبات مسرور جلد 12 627 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 اکتوبر 2014ء ضرورت ہے۔مثلاً اگر کوئی مسافر ہے۔آیا ہے چند آدمی کھڑے ہیں اور وہ سو پاؤنڈ کا مطالبہ کر رہا ہے ضرورت جائز ہے تو ان میں سے بعض لوگوں نے یا جو بھی کھڑے تھے انہوں نے اپنی جیب کے لحاظ سے ضرورت پوری کر دی لیکن پھر بھی دس پاؤنڈ کی کمی رہ گئی تو اتنے میں کوئی اور شخص آتا ہے جو صاحب حیثیت ہے۔اگر وہ چاہے تو وہ اکیلا ہی اس کی ضرورت پوری کر سکتا ہے لیکن ضرورت کے مطابق اس وقت صرف دس پاؤنڈ چاہئے تھے تو اس نے وہ دے دیئے تو یہ چیز ایسی ہے جس سے مطالبہ ہی اتنا کیا جا رہا ہے، بیشک اس کی حیثیت زیادہ ہے لیکن ضرورت کے مطابق اس نے وہ پوری کر دی۔یہ ضرورت کے مطابق قربانی ہے جو نیک نیتی سے اس صاحب حیثیت نے کر دی۔تو اس کا اسے ثواب ہے۔اسی طرح کسی تحریک کے لئے اگر چندے کا مثلاً کہا جا رہا ہے تو لوگ سینکڑوں ہزاروں میں دے رہے ہیں لیکن ایک غریب اپنی حیثیت کے مطابق چند روپے یا پاؤنڈ دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ جو دلوں پر نظر رکھتا ہے اس کے اس فعل کو نواز دیتا ہے اور ایسا انسان اپنے مقصد کو پالیتا ہے۔اس امیر نے بھی مقصد کو پا لیا کہ ضرورت کے وقت اپنے لحاظ سے معمولی سی رقم دی۔اس غریب کی مدد کر دی اور غریب نے بھی اپنے مقصد کو پا لیا کہ اپنی حیثیت کے مطابق یا اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے خرچ کرلیا۔اس لئے ایک حدیث میں بھی آتا ہے کہ ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ ایک درہم والا لاکھ درہم پر اس لئے سبقت لے گیا کہ ایک شخص نے دو درہم میں سے ایک دیا اور ایک شخص کے پاس لاکھوں تھا اس نے اس میں سے صرف لاکھ دیا جو اس کی حیثیت کے مطابق بہت کم تھا۔(سنن النسائی کتاب الزكاة باب جهد المقل حدیث نمبر 2527) پس ہمیشہ یا درکھنا چاہئے کہ اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہونی چاہئے اور اس خرچ کے معاملے میں ان دونوں کا مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا ہی تھی۔پس مومن کا اصل کام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لئے اپنے دل کی کیفیت کو ڈھالے۔مقصود اس کا اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہو اور اس میں اس کی فلاح اور کامیابی ہے۔اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کیلئے اپنے دل کی کیفیت کو اس کے مطابق ڈھالتا ہے تو اسی میں اس کی فلاح اور کامیابی ہے۔اور یہی دین کو دنیا پر مقدم کرنا ہے۔ہمارے ذمہ جیسا کہ میں نے کہا بہت بڑے کام لگائے گئے ہیں اور جان مال وقت اور عزت قربان کرنے کے لئے ہم عہد بھی کرتے ہیں۔اس کے لئے ہمیں ہمیشہ سنجیدگی سے غور کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے کہ کس طریق سے ہم اپنے عہد کو پورا کرتے ہوئے دین کو دنیا پر