خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 624
خطبات مسرور جلد 12 624 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 اکتوبر 2014ء ساتھ دینی علم کا حاصل کرنا اور پھر اس کو اپنے پر لاگو کرنا بھی ضروری ہے۔دینی علم حاصل کئے بغیر پتا ہی نہیں چل سکتا کہ دین ہے کیا، جسے میں نے دنیا پر مقدم کرنا ہے۔اب نماز اسلام کا ایک بنیادی رکن ہے لیکن بہت سے مسلمان ہیں بلکہ شاید اسی فیصد سے بھی زائد ایسے ہوں جو نمازیں نہیں پڑھتے اور اگر کبھی ایک آدھ پڑھ بھی لیں تو اس طرح بڑی تیزی میں اور جلدی جلدی جیسے زبر دستی کوئی مکروہ کام کر رہے ہیں۔اس لئے حضرت مصلح موعود نے لکھا ہے کہ بڑے بڑے آدمی ایسے بھی ہیں جو نمازوں میں سست ہیں بلکہ نواب اور رؤوسا کے لئے تو لکھتے ہیں کہ باجماعت نماز ایسی ہے جیسے ایک عام مسلمان کے لئے سور کھانا۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 12 صفحہ 80 خطبہ جمعہ بیان فرموده 29 مارچ 1929 ) یعنی بڑی کراہت سے پڑھتے ہیں اور یہ صرف اس زمانے کی بات نہیں، آج بھی یہ حالت ہے۔جیسا کہ میں نے کہا امراء کی اکثریت بلکہ جن کے پاس تھوڑی سی بھی کشائش آ جائے ، ان کو کشائش ہو جائے تو وہ بھی نمازوں سے غافل ہو جاتے ہیں اور اگر نماز میں پڑھ بھی لیں تو جو حالت نماز پڑھنے والے کی ہونی چاہئے اس سے وہ غافل ہیں۔نمازیں پڑھنے والے تو انسانی اقدار کے محافظ ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ نمازیں پاک تبدیلیاں تمہارے اندر پیدا کرتی ہیں۔آجکل کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں غیر احمدیوں کی مساجد کی آبادی بہت بڑھ رہی ہے۔لیکن اگر آبادی بڑھ رہی ہے تو ان نمازوں نے ان کے اندر کیا انقلاب پیدا کیا ہے؟ ملاں اور خطیب جن کے پیچھے نمازیں پڑھتے ہیں وہ انہیں سوائے نفرتوں کے درس دینے کے اور کیا دیتے ہیں؟ اسی لئے ان نمازیوں کی تعداد میں اضافے کے باوجود نفرتوں کی آگئیں مزید بھڑک رہی ہیں۔ہمارے خلاف تو جو کرتے ہیں کرتے ہیں ، خود آپس میں بھی یہ ایک دوسرے پر کچھ کم ظلم نہیں کر رہے۔اس لئے کہ یہ عبادتیں دین کو مقدم کرنے کے لئے نہیں ہیں بلکہ دنیا کے حصول کے لئے ہیں۔بظاہر ایک اعلیٰ مقصد کے لئے مسجد میں جاتے ہیں لیکن باطن میں اس کے پیچھے دنیاوی ادنیٰ مقاصد ہوتے ہیں۔پس اعلیٰ مقصد کے حصول کے لئے سوچ کو بھی اعلیٰ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور قربانی ذاتی مفاد کے لئے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہوتی ہے۔پس یہ مساجد کی آبادی اگر اعلیٰ مقصد کو پیش نظر رکھ کر نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حق کے ساتھ انسانیت کے حق قائم کئے جائیں، دین کی اشاعت اور اسلام کا قیام ہو تو سب بے فائدہ ہے۔اور عام مسلمانوں کی یہ تکلیف دہ صورتحال، ہمیں ہم جو احمدی ہیں، پہلے سے بڑھ کر اس طرف توجہ دلانے والی ہونی چاہئے کہ ہم نے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا جو عہد یا