خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 616
خطبات مسرور جلد 12 کے ساتھ دوکوس چلا جا۔“ 616 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 اکتوبر 2014ء (انجیل متی باب 5 آیت 39 تا 41) پس بے شک تمام انبیاء نے نرمی کی تعلیم دی ہے لیکن حضرت مسیح نے اپنے زمانے کے حالات کو دیکھتے ہوئے نرمی پہ بہت زیادہ زور دیا ہے۔پس یہ خاص تعلیم ہے جو حضرت مسیح لائے اور جب اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام مسیح رکھا یا آپ کو مسیح سے تشبیہ دی تو اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ کو بھی خاص طور پر نرمی کی تعلیم دینے کا حکم دیا گیا ہے۔گو کہ آپ کا نام مسیح رکھنے کی یہ بھی وجہ ہے کہ آپ عیسائیوں کی ہدایت کے لئے بھی آئے اور اس لحاظ سے مسیح کہلائے۔گو آپ دوسرے مذاہب کی طرف بھی آئے۔ہندوؤں کی طرف مبعوث ہونے کی وجہ سے آپ کا نام کرشن بھی رکھا گیا اور اسی طرح مسلمانوں اور تمام اقوام عالم کی طرف آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور نیابت میں آئے۔بہر حال مسیح کے نام پر زور ہے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی نرمی کی بہت تعلیم دی ہے اور سختی کو دور کرنے کی نصیحت فرمائی ہے۔آپ علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں که ”خدا چاہتا ہے کہ تمہاری ہستی پر پورا پورا انقلاب آوے اور وہ تم سے ایک موت مانگتا ہے جس کے بعد وہ تمہیں زندہ کرے گا۔تم آپس میں جلد صلح کرو اور اپنے بھائیوں کے گناہ بخشو کیونکہ شریر ہے وہ انسان کہ جو اپنے بھائی کے ساتھ صلح پر راضی نہیں۔وہ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ تفرقہ ڈالتا ہے۔تم اپنی نفسانیت ہر ایک پہلو سے چھوڑ دو اور باہمی ناراضگی جانے دو اور سچے ہو کر جھوٹے کی طرح تذلل کرو تا تم بخشے جاؤ۔نفسانیت کی فربہی چھوڑ دو کہ جس دروازے کیلئے تم بلائے گئے ہو اس میں سے ایک فربہ انسان داخل نہیں ہو سکتا۔“ کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد 19 صفحه 12 ) اگر ہم اس خصوصیت کو مدنظر نہ رکھیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا کو دھوکہ دیتے ہیں۔اگر ہم خود اس تعلیم پر عمل نہیں کرتے تو ہمیں دوسروں کو اس کی طرف بلانے کا کیا حق ہے۔پس ہمیں اپنی اصلاح کی بہت ضرورت ہے۔ہمیں وہ نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے جس سے دنیا سمجھے کہ ہم نے اپنے جذبات پر پورا پورا قا بو پالیا ہے۔آئرلینڈ کی مسجد کے افتتاح پر بھی میں نے کہا تھا کہ جب ہم تبلیغ کریں گے تو لوگ پوچھیں گے کہ باقی مسلمانوں کے بارے میں تو تم کہتے ہو کہ انہوں نے مسیح موعود کو نہیں مانا، اس لئے ہدایت سے خالی