خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 613 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 613

خطبات مسرور جلد 12 613 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 اکتوبر 2014ء اگر اللہ تعالیٰ کے نور سے فیض پانا ہے تو صبر حوصلہ اور بردباری کا وصف بھی اپنے اندر پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے منہ سے معارف اور حکمت کی باتیں نکلیں، لوگ ہماری طرف متوجہ ہوں ، ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو آگے بڑھانے والے ہوں تو ہمیں اپنے گھر یلو اور روزمرہ کے معاملات میں سختی اور غضب کی حالت میں رہنے سے اپنے آپ کو بچانا ہو گا۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنی ذہنی صلاحیتوں اور استعدادوں کو کبھی بھی تباہ و برباد نہ ہونے دیں تو بدظنی اور غضب سے اپنے آپ کو بچانا ہوگا۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ حقیقی مومن بنیں تو اپنی صلاحیتوں کو برمحل اور بر موقع اور مناسب رنگ میں ادا کرنا ہوگا۔غصہ کی کیفیت اگر کبھی پیدا بھی ہو تو جنونی ہو کے نہیں ہونی چاہئے بلکہ صرف اصلاح کی حد تک ہونی چاہئے۔غصے اور بے لگام جذبات کا اظہار انسان کو جنونی بنادیتے ہیں۔پس ان میں اعتدال کی ضرورت ہے۔اگر غصہ ہے تو اس حد تک جیسا کہ میں نے کہا جہاں اصلاح کے لئے ضروری ہے۔اپنی انا ؤں کی تسکین کے لئے نہیں، اپنی بڑائی ثابت کرنے کے لئے نہیں۔آپ نے فرمایا کہ جو اس سے زیادہ غصے کا اظہار کرتا ہے وہ اپنا ایمان ضائع کرتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ اسلام کی خوبصورتی یہی ہے کہ اعلیٰ اخلاق کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے غیر ضروری غصے کو دبانے اور عفو سے کام لینے کی تلقین کرے۔پس یہ خُلق ہر ایک کو اپنانے کی بہت زیادہ ضرورت ہے کیونکہ اس کے بغیر حقیقی مومن بننا مشکل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے متواتر مختلف تحریرات اور ارشادات میں فرمایا ہے کہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا چاہئے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 2 صفحہ 48) لیکن ہمارے اندر کمزوری ہے کہ ہم اس پر اس طرح عمل نہیں کرتے جس طرح کرنا چاہئے۔اس میں عام احمدی بھی شامل ہے اور عہدیداران بھی شامل ہیں۔ایسے لوگ جو دوسروں کو تو آپ کی باتیں سناتے ہیں اور جذبات کو قابو میں رکھنے کی تلقین کرتے ہیں لیکن خود اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ سچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلل اختیار کرو۔کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 12 ) بلکہ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض تو جھوٹے ہو کر سچے اور ظالم ہو کر اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔پھر کس طرح ایسے لوگوں کے بارے میں سمجھا جائے کہ ایمان کا ایک ذرہ بھی ان میں ہے۔کیونکہ ایمان کا تقاضا تو یہ ہے کہ بجائے ضد کرنے کے ہوش میں آنے پر وہ اپنے ظلم کا ازالہ