خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 612 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 612

خطبات مسرور جلد 12 612 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 اکتوبر 2014ء پھر آپ فرماتے ہیں کہ: دو قو تیں انسان کو منجر به جنون کر دیتی ہیں۔یعنی جنون کی طرف لے جانے والی بناتی ہیں۔ایک بدظنی اور ایک غضب جب کہ افراط تک پہنچ جاویں۔“ جب انسان ضرورت سے زیادہ ہر وقت اسی سوچوں میں پڑا ہو، غصے میں رہے، بدظنیاں کرتا رہے تو پھر پاگل پن کی کیفیت ہو جاتی ہے۔پس لازم ہے کہ انسان بدظنی اور غضب سے بہت بیچے ( ملفوظات جلد 6 صفحہ (104) ایک مومن کی تعریف کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ مومن کو کیسا ہونا چاہئے؟ اس کو کسی بھی حالت میں عقل وخرد کو ہاتھ سے نہیں دینا چاہئے ورنہ پھر جیسا کہ پہلے ذکر آیا پاگل پن کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : ” مرد کو چاہئیے کہ اپنے قومی کو برمل اور حلال موقعہ پر استعمال کرے۔مثلاً ایک قوت غضبی ہے جب وہ اعتدال سے زیادہ ہو تو جنون کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔جنون میں اور اس میں بہت تھوڑا فرق ہے۔جو آدمی شدید الغضب ہوتا ہے اس سے حکمت کا چشمہ چھین لیا جاتا ہے۔بلکہ اگر کوئی مخالف ہو تو اس سے بھی مغلوب الغضب ہو کر گفتگو نہ کرے۔“ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 208) پھر آپ مومن کی نشانی بتاتے ہیں کہ کس طرح مومن کو غصہ پر ضبط ہونا چاہئے یا غصے پر ضبط ہو تو حقیقی مومن کہلاتا ہے۔فرمایا: "وَالْكَظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ (آل عمران : 135 ) یعنی مومن وہ ہیں جو غصہ کھا جاتے ہیں اور لوگوں کے ساتھ عفو اور درگذر سے پیش آتے ہیں۔فرمایا ” اور اگر چہ انجیل میں بھی عفو اور در گذر کی تعلیم ہے۔مگر وہ یہودیوں تک محدود ہے۔دوسروں سے حضرت عیسی نے اپنی ہمدردی کا کچھ واسطہ نہیں رکھا اور صاف طور پر فرما دیا کہ مجھے بجز بنی اسرائیل کے دوسروں سے کچھ غرض نہیں خواہ وہ غرق ہوں خواہ نجات پاویں۔“ چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد 23 صفحه (395) پس حضرت مسیح کا عفو و درگزر بنی اسرائیل تک محدود تھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو مسیح محمدی بن کر آئے ہیں آپ کا دائرہ عفو و درگزر تو ساری دنیا تک پھیلا ہوا ہے۔اس لئے ہمیں بھی اپنے عفو اور درگز رکو وسیع تر کرنے کی ضرورت ہے۔پس یہ ہیں وہ معیار جو ہمیں حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔