خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 606 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 606

خطبات مسرور جلد 12 606 41 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 اکتوبر 2014ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 10 اکتوبر 2014ء بمطابق 10 اخاء 1393 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ایک مومن کو عابد بننے اور اعلیٰ اخلاق اپنانے کی طرف بہت توجہ دلائی ہے کیونکہ ان کے بغیر ایک ایمان کا دعویٰ کرنے والا مومن نہیں کہلا سکتا۔جہاں مومن کی یہ نشانی ہے کہ وہ عبادت کرنے والا ہو وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ وہ لغو باتوں سے اعراض کرنے والا ہو۔یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک شخص مومن بھی ہو اور پھر اس سے بداخلاقیاں بھی سرزد ہو رہی ہوں۔عموماً بداخلاق انسان اس وقت ہوتا ہے جب اس میں تکبر ہو۔اسی لئے رحمان خدا کے بندوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا۔(الفرقان: 64) یعنی زمین پر وہ نہایت عاجزی سے چلنے والے ہیں۔اور جس انسان میں عاجزی ہو وہ نہ صرف جھگڑوں اور فسادوں سے بچتا ہے بلکہ صلح جوئی کی طرف رجحان رکھتا ہے اور دوسرے اعلیٰ اخلاق بھی اس میں پائے جاتے ہیں۔اور جب اعلیٰ اخلاق کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا بھی پیش نظر ہو اور اس کی رضا کے حصول کے لئے اعلیٰ اخلاق کے ساتھ وہ خدا تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو پھر ہی یہ کیفیت جو ہے وہ حقیقی مومن کی کیفیت ہوتی ہے۔گو یا حقیقی مومن عابد اور عاجز ہوتا ہے۔ہاں یہ بھی صحیح ہے کہ ہر انسان کی استعدادیں مختلف ہیں۔جسمانی حالت مختلف ہے۔بعض عارضی حالات ایسے پیدا ہو جاتے ہیں جو روک بن جاتے ہیں۔اس لئے ہر شخص ہر وقت اور ہر حالت میں اپنے اخلاقی معیار کو ایک طرح نہیں رکھ سکتا۔اسی طرح اپنی روحانی ترقی کے لئے بھی اپنی عبادتوں اور اپنی