خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 604
خطبات مسرور جلد 12 604 خطبه جمعه فرموده مورخه 03 اکتوبر 2014ء تھے۔اور تمام خاندان والے ان سے مشورہ لیا کرتے تھے۔اپنے بہن بھائیوں کا خیال رکھنا ان کی تعلیم کا خیال رکھنا۔ایک بہن کے کچھ مالی مسائل تھے۔ان کے خاوند کو کسی وجہ سے جیل جانا پڑ گیا۔بچوں کا بڑا خیال رکھا۔نو مبائعین کی خدمت میں ہر وقت مصروف رہنے والے تھے۔تیسرا جنازہ جو ہے الحاجہ سٹر نعیمہ لطیف صاحبہ کا ہے۔یہ مکرم الحاج جلال الدین لطیف صاحب صدر جماعت زائن اور نائب صدر انصار اللہ یو ایس اے کی اہلیہ تھیں۔کچھ عرصہ سے کافی زیادہ بیمار تھیں۔23 ستمبر 2014ء کو نماز ظہر کی تیاری کر رہی تھیں تو اپنے مولی حقیقی سے جاملیں۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ سسٹر نعیمہ لطیف 21 رمئی 1939 ء کو ایک عیسائی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔آپ نے ویسٹ ورجینیا یو نیورسٹی میں تعلیم حاصل کر کے امریکن آرمی کے شعبہ میڈیکل میں رضا کارانہ طور پر کام شروع کیا۔جنگ کے دوران زخمی ہونے والے فوجیوں کی دیکھ بھال کا کام کیا۔معاشرے میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے والی ، قانون کی پاسدار اور امن پسند خاتون تھیں۔1974ء میں احمدیت قبول کی اور خود مطالعہ کر کے بڑی تیزی سے ایمان وا خلاص میں ترقی کی۔یہاں تک کہ یو کے کے جلسہ سالانہ 2000 ء کے موقع پر حضرت خلیفہ المسیح الرابع سے ملاقات ہوئی تو حضور نے ان کو فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے جیسے آپ پیدائشی احمدی مسلمان ہیں۔سٹر نعیمہ نے اپنی زندگی میں کبھی نماز جمعہ نہیں چھوڑی۔جماعتی پروگراموں میں با قاعدگی سے شامل ہونے والی تھیں۔رمضان کے روزے کبھی نہیں چھوڑے۔اس کے علاوہ سنت نبوی پر عمل کرتے ہوئے باقاعدگی سے ہفتہ وار نفلی روزے بھی رکھتی تھیں۔اعتکاف میں بیٹھنے کا بھی انہیں موقع ملتا رہا۔خدمت خلق کے کاموں میں پیش پیش تھیں۔ضعیف کمز ور لوگوں کو جو خود مسجد نہیں پہنچ سکتے تھے۔انہیں باقاعدگی سے سواری مہیا کرتیں۔2002ء میں اپنے خاوند اور جماعت امریکہ کے بڑے وفد کے ساتھ حج بیت اللہ کی سعادت پائی۔اپنے بچوں کو جمعہ کی نماز میں شامل کرنے کے لئے سکول سے چھٹی کرواتی تھیں۔اپنے گھر میں فجر کی نماز کے بعد سارے خاندان کو تلاوت قرآن پاک کی عادت ڈالی۔مغرب کی نماز جو گھر میں باجماعت ادا ہوتی تو ان کے بچوں کے ساتھ محلے کے بچے بھی شامل ہو جایا کرتے تھے۔مالی قربانی میں پیش پیش رہتیں۔جب بھی کوئی زیور آپ کے میاں کی طرف سے تحفہ ملتا تو مساجد کے لئے چندے میں دے دیتیں۔عمر کے آخری حصے میں اپنے خاوند کو کہا کہ آپ نے جو تحفہ دینا ہوتا ہے وہ میں مسجد فنڈ میں دے دیتی ہوں۔بہتر یہ ہے کہ آپ تحائف خریدنے کے بجائے براہ راست میری طرف سے یہ رقم مسجد فنڈ میں دے دیا کریں۔اخلاص سے بھری ہوئی ایسی خواتین بھی اللہ تعالیٰ نے جماعت کو عطا فرمائی ہیں۔بہت منکسر المزاج تھیں۔غیبت