خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 603 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 603

خطبات مسرور جلد 12 603 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 اکتوبر 2014ء ہر ایک سے مسکرا کر بات کرتے۔کسی مجلس میں بیٹھے ہوتے تو فوراً اس کا حصہ بن جاتے اور اپنے دلچسپ انداز گفتگو سے محفل کو کشت زعفران بنا دیتے۔تمام واقفین زندگی اور خاص طور پر مربیان سلسلہ کا بہت احترام کرتے تھے۔کہتے ہیں کہ موسم گرما میں جب بھی میں میر پور خاص جا تا تو مسجد میں آپ سے ملاقات ہوتی اور بحیثیت واقف زندگی بڑی عاجزی اور انکساری سے ملتے حالانکہ عمر میں میرے سے بڑے تھے لیکن مربی ہونے کی وجہ سے اتنا احترام کرتے کہ مجھے اس پر شرمندگی محسوس ہوتی۔چہرے پر غصہ، تنگ نظری کے آثار کبھی نہیں دیکھے۔ہمیشہ مسکراتے اور بارونق چہرے کے ساتھ ملتے۔علاقے کے لوگ بھی حیران ہیں کہ کس وجہ سے شہید کیا گیا ہے؟ ایک ہمدرد انسان تھے۔خدمت انسانیت کا جذبہ آپ میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔لوگوں کی طرف سے اس بات کا برملا اظہار آپ کی شہادت کے موقع پر بھی ہوا۔کہتے ہیں کہ اللہ کے فضل سے بچوں میں بڑا حوصلہ ہے۔میں نے بیٹے سے افسوس کیا۔میرا خیال تھا کہ مجھے اچھی طرح جانتا ہے تو شاید جذباتی نہ ہو جائے لیکن بالکل نہیں رویا، کوئی جذباتی نہیں ہوا اور مجھے کہنے لگا کہ مربی صاحب! میر پورخاص کی دو شہادتیں ہو گئیں۔سابق صدر لجنہ بیان کرتی ہیں کہ شہادت کے موقع پر غیر از جماعت بھی افسوس کے لئے آئے۔دو غیر از جماعت عورتیں تعزیت کے لئے آئیں۔ان کا تعلق اس علاقے سے تھا جہاں ان کا کلینک تھا۔کہتی ہیں ہم بھی ڈاکٹر صاحب سے دوائی لیا کرتی تھیں۔کہتی ہیں ایک دفعہ ایک غریب عورت ڈاکٹر صاحب کے پاس دوائی لینے کے لئے آئی۔آپ نے اسے دوائی دی اور کچھ پر ہیز بتایا۔اس پر اس عورت نے بادل نخواستہ کہا۔اچھا۔اس کے انداز سے ظاہر ہورہا تھا کہ وہ ایسا نہیں کرے گی کیونکہ وہ غریب تھی بیچاری تو مبشر صاحب شہید فوراً سمجھ گئے۔اور اسے فیس بھی واپس کر دی اور کچھ رقم بھی دی اور کہا کہ لو ان پیسوں سے تم نے یہ چیزیں لینی ہیں۔علاج مکمل کرنا خوراک کا خیال رکھنا۔ان عورتوں نے کہا کہ آپ لوگ جو انسانیت کی خدمت کرتے ہیں تو یہ غیر از جماعت ، یہ احمدیوں کے مخالفین ، آپ لوگوں کو ہی چن چن کر مارتے ہیں۔بہر حال ان کا خیال ہے کہ یہ ظالمانہ اور درندگی سے بھری ہوئی حرکات سے وہ ہمارے ایمان کو کچھ کمزور کر لیں گے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے بعد کئی خط مجھے آئے ہیں کہ ہم اپنے ایمان پر قائم ہیں اور کوئی فکر کی بات نہیں۔اللہ تعالیٰ ایک شہید کے بدلے ہزاروں احمدی عطا فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہ سلوک ہے۔بہر حال ہمیں یہ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان میں احمدیوں کو ہر لحاظ سے اپنی حفاظت میں رکھے۔ان کے بھائی بھی لکھتے ہیں کہ بڑے حکمت سے سارے خاندان کے کام سلجھانے والے