خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 582 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 582

خطبات مسرور جلد 12 582 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 ستمبر 2014ء کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب انہیں اللہ اور رسول کسی فیصلے کے بارے میں بلاتے ہیں،کسی بات کا حکم دیتے ہیں تو وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔پس ہر ایک کو اس معیار کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔خود اپنا جائزہ ہی ہمیں اپنی حالتوں کے بارے میں بتا سکتا ہے۔قرآن کریم نے بے شمار احکام دیئے ہیں جن کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے ایک جگہ لکھا ہے کہ یہ سات سو حکم ہیں۔اور جو اُن کو نہیں مانتا، ان پر عمل کرنے کی کوشش نہیں کرتا وہ مجھ سے دُور ہو رہا ہے اپنا تعلق مجھ سے کاٹ رہا ہے۔(ماخوذ از کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 26) پس اللہ تعالیٰ پر ہمارا ایمان تب مکمل ہو گا جب ہم اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کر رہے ہوں گے۔پھر ہم کہتے تو یہ ہیں کہ ہم آخرت پر ایمان لاتے ہیں لیکن ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں کہ یہ آخرت پر ایمان کا دعویٰ صرف منہ کی باتیں ہیں کیونکہ اگر آخرت پر ایمان کامل ہو تو انسان بہت سے گناہوں اور حقوق کے غصب کرنے سے بچتا ہے۔ہم دنیا وی قانون کے خوف سے تو بہت سے کام کرنے سے رک جاتے ہیں کہ پکڑے گئے تو کیا ہوگا اور افسروں کی اطاعت بھی ہم ان کے خوف سے کرتے ہیں۔لیکن بہت سے غلط کام ہم میں سے بہت سے اس لئے کرتے ہیں کہ آخرت کے بارے میں باوجود دعوے کے ہم سوچتے نہیں۔بہت سے ہم میں سے اگر کبھی خشوع سے نمازیں پڑھ بھی رہے ہوں گے تو اس لئے پڑھتے ہیں کہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے دعا کریں۔دنیاوی مقاصدان میں بہت زیادہ ہوتے ہیں۔مسجدوں میں بعض اس لئے بھی آ جاتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے کہ اتنا عرصہ ہوا مسجد میں نہیں آیا۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ مسجدوں کو آباد کرنے والے قیام نماز خدا تعالیٰ کے لئے کرتے ہیں۔باجماعت نمازیں، ان کی پابندی، وقت پر ادا ئیگی اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کرتے ہیں۔ان کی عبادتیں خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہوتی ہیں۔ان کی مالی قربانیاں بھی خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہیں۔خدا تعالیٰ کے علاوہ انہیں کسی کا خوف نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو صرف ایمان کا دعوی کرنے والے نہیں ہیں بلکہ انہیں ہرلمحہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت بھی نظر آتی ہے۔ہر قدم ان کا ہدایت کے نئے سے نئے راستوں کی طرف اٹھتا ہے۔ہر راستہ ان کے لئے فلاح کے دروازے کھولتا چلا جاتا ہے۔کامیابیوں کے دروازے کھولتا چلا جاتا ہے۔یہ ہدایت انہیں کامیابیوں کی طرف لے جاتی ہے۔انہیں کامیابیاں نصیب ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کا جماعت احمدیہ پر یہ احسان ہے کہ اس نے جماعت کو ایسے مومنین عطا کئے