خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 581
خطبات مسرور جلد 12 581 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 ستمبر 2014ء ان خصوصیات کے حامل لوگوں سے آباد ہوتی ہے جن کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔جو ایمان لانے والوں میں شامل ہیں۔ان مومنوں میں شامل ہیں جن کے ایمان کے معیار اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ اس طرح بیان فرمائے ہیں۔فرمایا کہ اَشَدُّ حُبًّا لِلهِ۔یعنی مومنوں کی محبت سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ہوتی ہے۔کوئی دوسری دنیا وی محبت ان پر غالب نہیں ہوتی۔وہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کے لئے اپنی زندگیاں گزارنے کی کوشش کرتے چلے جاتے ہیں۔یہ نہیں ہوتا کہ دنیاوی مفاد کو حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی محبت کو بھول جائیں۔اللہ تعالیٰ کی محبت یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس کے احکام پر عمل کیا جائے۔یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔یہ نہیں کہ اپنے کام کے بہانے کر کے نمازوں کو انسان بھول جائے۔مالی مفاد کا فائدہ اٹھانے کے لئے جھوٹ کا سہارا لے لے۔یہ کام کرتے وقت انسان کو سوچنا چاہئے کہ میری محبت خدا تعالیٰ سے زیادہ ہے یا دنیاوی مفادات سے؟ اگر دنیاوی چیزیں اللہ تعالیٰ کے حکموں سے دور لے جارہی ہیں تو دنیا کی محبت غالب آ رہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ” جاننا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی غیوری محبت ذاتیہ میں کسی مومن کی اس کے ( یعنی اللہ کے ) غیر سے شراکت نہیں چاہتی۔ایمان جو ہمیں سب سے پیارا ہے۔وہ اسی بات سے محفوظ رہ سکتا ہے کہ ہم محبت میں دوسرے کو اس سے شریک نہ کریں۔“ ( مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 538 مکتوب نمبر 120 مکتوبات بنام حضرت منشی رستم علی صاحب ، شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ) پس یہ بڑی قابل غور بات ہے۔کہنے کو تو ہر مسلمان یہی کہتا ہے کہ مجھے خدا سے محبت ہے، مجھے رسول سے محبت ہے۔اسی لئے مرنے مارنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔کبھی کسی مسلمان کے منہ سے ہم یہ نہیں سنیں گے کہ مجھے خدا یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہیں ہے۔لیکن کتنے ہیں جو خدا اور اس کے رسول کے احکام پر عمل کرنے والے ہیں۔صرف نماز کو ہی لے لیں۔ہمیں جائزے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم نمازوں کا حق ادا کر کے نمازیں پڑھتے ہیں۔بہت سے ایسے ہیں جن کے جواب یہ ہیں کہ تین نمازیں یا چار نمازیں پڑھتے ہیں۔پھر بہت سے ایسے ہیں جو نماز کی ادائیگی میں اتنی جلدی کرتے ہیں کہ جیسے ایک بوجھ گلے سے اتار رہے ہوں۔نماز جو خدا تعالیٰ کے قریب کرنے اور اس سے محبت کے اظہار کا ذریعہ ہے۔اگر اس کی ادائیگی ہم سنوار کر نہیں کر رہے تو محبت کے تقاضے ہم پورے نہیں کر رہے۔پھر ایمان لانے والوں