خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 580
خطبات مسرور جلد 12 580 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 ستمبر 2014ء ایک ان میں سے کہنے لگے کہ جماعت احمدیہ جس طرح انسانیت کی قدریں قائم کرنے کے لئے اور امن کے قیام کے لئے کوشش کرتی ہے وہ دوسرے مسلمانوں میں نظر نہیں آتیں اور یہ معلومات جماعت کے بارے میں بڑی گہرائی میں جا کر میں نے لی ہیں۔اور کہنے لگے کہ یہ سب معلومات لے کر میں اس بات کا خواہشمند ہوں کہ اب جماعت احمدیہ، ڈبلن میں بھی جلد مسجد بنائے تا کہ یہ محبت اور اعلیٰ قدروں کا پیغام اس شہر میں بھی پھیلے جو میرا شہر ہے۔تو اس طرح اللہ تعالیٰ دنیا کو بتا رہا ہے کہ صرف تصویر کا ایک رخ دیکھ کر اسلام کے بارے میں غلط رائے قائم نہ کرو بلکہ تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھو جو حقیقی رخ ہے جس کو آج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کی جماعت پیش کرتی ہے۔پس اس بات پر ہمیں خوش نہیں ہو جانا چاہئے کہ ہم نے یہاں مسجد بنالی اور آج دنیا نے ایم ٹی اے کے ذریعہ سے آپ کی مسجد دیکھ لی۔آپ بھی دنیا کو کہنے کے قابل ہو گئے کہ ہمارے پاس بھی مسجد ہے۔ایک فنکشن شام کو بھی ہو جائے گا انشاء اللہ اور اس میں پڑھے لکھے طبقے کو آپ کی مسجد دیکھنے کا موقع ملے گا یا یہ لوگ مسجد کی خوبصورتی کی تعریف کر دیں گے یا تعریف کی جانی شروع بھی ہو گئی ہوگی۔یا مختلف وقتوں میں شاید مختلف لوگ اس شہر کے بھی اور باہر سے بھی مسجد کا وزٹ کرنے آئیں اور آپ خوش ہو جائیں کہ اتنے لوگوں یا اتنے گروپوں نے وزٹ کیا ہے اور بس آپ نے سمجھ لیا کہ ہم نے اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے۔یہ نہیں۔جیسا کہ میں نے کہا کہ بہت سی باتیں ہیں جس کا اعلان آپ اس مسجد کے ساتھ کر رہے ہیں۔یہ سب باتیں ایک بہت بڑی ذمہ داری آپ پر ڈالنے والی ہونی چاہئیں۔پس ان ذمہ داریوں کی طرف یہاں کے رہنے والے ہر احمدی کی توجہ ہونی چاہئے کہ کس طرح یہ ذمہ داری ادا کرنی ہے؟ جیسا کہ میں بیان کر آیا ہوں کہ مسجد کا کردار کیا ہے اور ہماری مسجدوں سے کیا اعلان ہوتا ہے۔کس طرح ہم نے حقوق اللہ بھی ادا کرنے ہیں اور حقوق العباد بھی ادا کرنے ہیں۔اگر ان کی ادائیگی کی طرف توجہ نہیں تو ہمارے دعوے بھی کھو کھلے ہوں گے۔ہمارے نعرے اور اعلان بھی دنیا کو دھوکہ دینے والے ہوں گے۔ہم صرف زبانی باتوں اور پراپیگینڈے سے دنیا والوں کو خوش تو کر رہے ہوں گے لیکن جو ہماری زندگی کا مقصد ہے خدا کو راضی کرنا اور اس کی رضا کے مطابق اپنے عملوں کو ڈھالنا ،اس طرف ہماری توجہ نہیں ہوگی۔میں نے شروع میں جو آیت تلاوت کی تھی اس میں بھی خدا تعالیٰ نے مسجدوں کو آباد کرنے والوں کی خصوصیات بیان کی ہیں۔اس آیت کی وسعت خانہ کعبہ سے نکل کر ہر اس مسجد تک پھیلتی چلی جاتی ہے جو