خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 579 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 579

خطبات مسرور جلد 12 579 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 ستمبر 2014ء عمل اور اسوہ حسنہ سے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی ہے۔انسانیت کی قدر میں قائم کرنے اور محبت ، سلامتی اور امن کے قیام کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نمونے قائم کئے۔یہ صرف کہنے کی باتیں نہیں ہیں بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ ایک موقع پر آپ نے عیسائیوں کو ان کی عبادت کے وقت اپنی مسجد مسجد نبوی میں عبادت کرنے کی اجازت دے دی۔السيرة النبوية لابن هشام صفحه 396 امر السيد والعاقب وذكر المباهلة (صلاتهم الى المشرق) مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2001ء) اور یہی وہ حقیقی اسلامی تعلیم ہے جس کو اس زمانے میں ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق اور عاشق صادق نے اپنے اوپر لاگو کرنے کا حکم دیا۔یہی وہ حقیقی اسلامی تعلیم اور عمل ہے جس کی چند مثالیں میں نے پیش کیں۔جن کے کرنے اور پھیلانے کا ہمیں حکم دے کر اور ہم سے توقع کر کے زمانے کے امام مسیح موعود اور مہدی معہود علیہ السلام نے فرمایا کہ اس سوچ کے ساتھ جہاں بھی تم مسجدیں بناؤ گے اسلام کے تعارف اور تبلیغ کے نئے راستے کھولتے چلے جاؤ گے۔لوگوں کی اسلام کی طرف توجہ ہوگی۔اس کی خوبصورت تعلیم انہیں اپنا گرویدہ کر لے گی اور یوں تمہاری تعداد بھی بڑھتی چلی جائے گی۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 7 صفحه (119) پس یہی مقصد ہے جس کے لئے ہمیں اپنی مساجد بنانی چاہئیں اور ہم بناتے ہیں۔یہی وہ تعلیم ہے جس کو آج میڈیا کے ذریعہ دیکھ کر اور اس کا علم پا کر دنیا ہماری طرف متوجہ ہوتی ہے۔ایک عام آدمی سے لے کر بڑے بڑے لیڈر اور سیاستدان جب دیکھتے ہیں کہ ایک طرف تو شدت پسند گروہ ہیں جو مار دھاڑ اور بلا امتیاز قتل و غارت میں لگے ہوئے ہیں اور دوسری طرف ایک جماعت ہے جو محبت ، پیار صلح اور امن کے لئے کوشش کر رہی ہے۔ایک طرف تو ایسے نام نہاد مسلمانوں کی مساجد ہیں جن سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نام پر گالیاں اور غلاظتوں سے بھرے ہوئے جذبات کے اظہار کئے جاتے ہیں اور دوسری طرف صرف امن اور صلح کی بات کی جاتی ہے اور محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں، کے نعرے بلند کئے جاتے ہیں۔یقینا یہ باتیں اپنی طرف توجہ ھینچتی ہیں۔لوگوں کو مجنس پیدا ہوتا ہے کہ ان دو قسموں کے مسلمانوں میں فرق کیوں ہے؟ اور پھر یہ تجنس آجکل کے جدید میڈیا انٹرنیٹ وغیرہ کے ذریعہ جماعت احمدیہ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی طرف مائل کرتا ہے۔پرسوں ڈبلن پارلیمنٹ میں جانے کا اتفاق ہوا۔کچھ ممبران پارلیمنٹ سے ملنے کا بھی موقع ملا۔