خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 52
خطبات مسرور جلد 12 52 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جنوری 2014ء ہیں لیکن اُن کے گھروں میں بے چینیاں ہیں۔اور بعض گھر بے چینیوں سے بھرے پڑے ہیں، مسائل میرے سامنے آتے ہیں کہ خاوند بیوی کے حقوق نہیں ادا کرتا، بیوی خاوند کے حقوق نہیں ادا کرتی۔ایمان میں پختگی پیدا کر کے عملی اصلاح کی کوشش کریں، اللہ تعالیٰ کے آگے جھکیں تو پھر یہ مسائل خود بخو دحل ہو جاتے ہیں۔یہ بھی طریقہ ہر ایک کو آزمانا چاہئے۔اپنی اناؤں کو چھوڑ کر اپنے دلوں میں جو پہلے ایک سوچ بنا لی ہوتی ہے کہ اس نے یہ کہا اور میں نے یہ کہنا ہے۔اُس نے یہ کہنا ہے اور میں نے یہ کہنا ہے۔اس بات کو ختم کر کے خالصتہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنی چاہئے تبھی اللہ تعالیٰ پھر صحیح راستے دکھاتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کی تائیدات کے نشانات جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے طفیل اللہ تعالیٰ ہمیں اس زمانے میں بھی دکھاتا ہے اُن کے بارے میں بھی بتا دوں۔ٹیچی مان (Techiman) گھانا کے ہمارے سرکٹ مشنری ہیں۔کورا بورا ان کا گاؤں ہے۔کہتے ہیں کہ وہاں ایک نواحمدی جبریلا صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ یہ کاشت کا موسم ہے۔میرے غیر مسلم بت پرست والد نے مجھے بتوں کے حضور حاضر ہونے اور نذرانہ پیش کرنے کا کہا ہے تا کہ ان کی برکت سے میری یام (Yam) کی فصل اچھی ہو جائے اور خوب پھل آئے ( یام وہاں کی ایک خاص فصل ہے۔لوگ کھاتے ہیں، ویسے تو یہاں بھی ملتا ہے۔تو معلم لکھتے ہیں کہ جب میں نے اُسے کہا کہ ان بتوں سے باز ہی رہو اور والد کو بھی باز رکھو۔نیز اُسے دعائے استخارہ سکھائی تو خدا کے فضل سے جب کٹائی کا وقت آیا تو اس نوجوان کی یام کی فصل بہت اچھی ہوئی اور اُس کے والد کی نسبت اُس کی فصل کو اور زیادہ اچھا پھل لگا۔والد مشرک تھا اُس کی نسبت اس کی فصل بہت بہتر تھی۔اس کے والد نے یہ نشان دیکھ کر اُسے کہا کہ میرے بیٹے کا جو خدا ہے وہ سچا خدا ہے۔پھر جو بت اُس کے پاس موجود تھے وہ سارے جلا دیئے۔تو یہ وہ ایمان کی مضبوطی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے سے نواحمد یوں میں پیدا ہو رہی ہے۔پھر ہمارے ایلڈوریٹ (Eldoret) کینیا کے مبلغ ہیں۔مسجد کے احاطے میں اُن کا جو دفتر تھا وہاں کسی طرح مخالف احمدیت نے داخل ہو کر جو اصل میں تو پہلے ملازم تھا اور وہاں اُس کا آنا جانا تھا۔بہر حال کچھ ناراضگیاں ہو گئیں اور اُس کو فارغ کیا گیا تو اُس نے داخل ہو کر چھت کی جو سیلنگ (ceiling) ہوتی ہے اُس میں وہ دوائی، وہ نشہ آور ڈرگز رکھ دیں جو ممنوعہ ہیں۔اور پولیس کو رپورٹ کر دی کہ یہاں احمدی مبلغ رہتا ہے اور اسلام کی تبلیغ کا تو یہ بس ایک بہانہ ہے۔اصل میں تو یہ ڈرگ کا کاروبار کرتا ہے۔اس پر پولیس نے اپنی کارروائی کرتے ہوئے دفتر پر چھاپا مارا اور جب اُس کی بتائی