خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 573
خطبات مسرور جلد 12 573 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 ستمبر 2014ء انسان سمجھتا ہے کہ نرا زبان سے کلمہ پڑھ لینا ہی کافی ہے یا نرا استغفر اللہ کہہ دینا ہی کافی ہے۔مگر یا درکھو زبانی لاف و گزاف کافی نہیں۔خواہ انسان زبان سے ہزار مرتبہ استغفر اللہ کہے یا سو مرتبہ تسبیح پڑھے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ خدا نے انسان کو انسان بنایا ہے طوطا نہیں بنایا۔یہ طوطا کا کام ہے کہ وہ زبان سے تکرار کرتا رہے اور سمجھے خاک بھی نہیں۔انسان کا کام تو یہ ہے کہ جو کچھ منہ سے کہتا ہے اس کو سوچ کر کہے اور پھر اس کے موافق عملدرآمد بھی کرے۔“ ( جو کہے رہے ہو اس کو سوچو اور پھر اس پر عمل بھی کرو لیکن اگر طوطا کی طرح بولتا جاتا ہے تو یا درکھو نری زبان سے کوئی برکت نہیں ہے۔جب تک دل سے اس کے ساتھ نہ ہو اور اس کے موافق اعمال نہ ہوں وہ نری باتیں سمجھی جائیں گی جن میں کوئی خوبی اور برکت نہیں کیونکہ وہ نرا قول ہے خواہ قرآن شریف اور استغفار ہی کیوں نہ پڑھتا ہو۔خدا تعالیٰ اعمال چاہتا ہے اس لیے بار بار یہی حکم دیا کہ اعمال صالحہ کرو۔جب تک یہ نہ ہو خدا کے نزدیک نہیں جاسکتے۔بعض نادان کہتے ہیں کہ آج ہم نے دن بھر میں قرآن ختم کر لیا ہے۔لیکن کوئی ان سے پوچھے کہ اس سے کیا فائدہ ہوا؟ نری زبان سے تم نے کام لیا مگر باقی اعضاء کو بالکل چھوڑ دیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمام اعضاء اس لیے بنائے ہیں کہ ان سے کام لیا جاوے۔یہی وجہ ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ بعض لوگ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور قرآن ان پر لعنت کرتا ہے کیونکہ ان کی تلاوت نرا قول ہی قول ہوتا ہے اور اس پر عمل نہیں ہوتا۔جو شخص کہ اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود کے موافق اپنا چال چلن نہیں بناتا ہے وہ ہنسی کرتا ہے کیونکہ پڑھ لینا ہی اللہ تعالیٰ کا منشا نہیں وہ تو عمل چاہتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 398-399 پھر آپ نے فرمایا کہ : ” اچھی طرح یا درکھو کہ نری لاف و گزاف اور زبانی قیل و قال کوئی فائدہ اور اثر نہیں رکھتی جب تک کہ اس کے ساتھ عمل نہ ہو اور ہاتھ پاؤں اور دوسرے اعضاء سے نیک عمل نہ کئے جاویں جیسے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف بھیج کر صحابہ سے خدمت لی۔کیا انہوں نے صرف اسی قدر کافی سمجھا تھا کہ قرآن کو زبان سے پڑھ لیا یا اس پر عمل کرنا ضروری سمجھا تھا۔انہوں نے اطاعت اور وفاداری دکھائی کہ بکریوں کی طرح ذبح ہو گئے اور پھر انہوں نے جو کچھ پایا اور خدا تعالیٰ نے ان کی جس قدر ، قدر کی وہ پوشیدہ بات نہیں ہے۔فرماتے ہیں: ” خدا تعالیٰ کے فضل اور فیضان کو حاصل کرنا چاہتے ہو تو کچھ کر کے دکھا ؤور نہ کبھی شئے کی طرح تم پھینک دیئے جاؤ گے۔فرماتے ہیں ” کوئی آدمی اپنے گھر کی اچھی چیزوں