خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 571 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 571

خطبات مسرور جلد 12 571 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 ستمبر 2014ء ”ہماری جماعت میں وہی داخل ہوتا ہے جو ہماری تعلیم کو اپنا دستور العمل قرار دیتا ہے اور اپنی ہمت اور کوشش کے موافق اس پر عمل کرتا ہے۔لیکن جو محض نام رکھا کر تعلیم کے موافق عمل نہیں کرتا وہ یاد رکھے کہ خدا تعالیٰ نے اس جماعت کو ایک خاص جماعت بنانے کا ارادہ کیا ہے اور کوئی آدمی جو دراصل جماعت میں نہیں ہے۔محض نام لکھانے سے جماعت میں نہیں رہ سکتا۔اس پر کوئی نہ کوئی وقت ایسا آ جائے گا کہ وہ الگ ہو جائے گا۔اس لئے جہاں تک ہو سکے اپنے اعمال کو اس تعلیم کے ماتحت کرو جو دی جاتی ہے۔اعمال پروں کی طرح ہیں۔بغیر اعمال کے انسان روحانی مدارج کے لئے پرواز نہیں کر سکتا اور ان اعلیٰ مقاصد کو حاصل نہیں کر سکتا جو ان کے نیچے اللہ تعالیٰ نے رکھے ہیں۔پرندوں میں فہم ہوتا ہے اگر وہ اس فہم سے کام نہ لیں تو جو کام ان سے ہوتے ہیں نہ ہوسکیں۔مثلاً شہد کی مکھی میں اگر فہم نہ ہوتو وہ شہر نہیں نکال سکتی اور اسی طرح نامہ بر کبوتر جو ہوتے ہیں۔(ایسے کبوتر جن کے ذریعہ سے پیغام پہنچائے جاتے ہیں ) ان کو اپنے فہم سے کس قدر کام لینا پڑتا ہے۔کس قدر دور دراز کی منزلیں وہ طے کرتے ہیں اور خطوط کو پہنچاتے ہیں۔اسی طرح پر پرندوں سے عجیب عجیب کام لئے جاتے ہیں۔پس پہلے ضروری ہے کہ آدمی اپنے فہم سے کام لے اور سوچے کہ جو کام میں کرنے لگا ہوں یہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے نیچے اور اس کی رضا کے لئے ہے یا نہیں۔جب یہ دیکھ لے اور فہم سے کام لے تو پھر ہاتھوں سے کام لینا ضروری ہوتا ہے ستی اور غفلت نہ کرے۔ہاں یہ دیکھ لینا ضروری ہے کہ تعلیم صحیح ہو۔کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ تعلیم صحیح ہوتی ہے لیکن انسان اپنی نادانی اور جہالت سے یا کسی دوسرے کی شرارت اور غلط بیانی کی وجہ سے دھوکا میں پڑ جاتا ہے۔اس لئے خالی الذہن ہو کر تحقیق کرنی چاہئے۔“ ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 439-440) آپ دوسروں کو بھی غیروں کو بھی اور اپنوں کو بھی فرما رہے ہیں۔پھر آپ نے ایک جگہ فرمایا کہ : 'ہر شخص کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف کرے اور اللہ تعالیٰ کا خوف اس کو بہت سی نیکیوں کا وارث بنائے گا جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے وہی اچھا ہے کیونکہ اس خوف کی وجہ سے اس کو ایک بصیرت ملتی ہے جس کے ذریعہ وہ گناہوں سے بچتا ہے بہت سے لوگ تو ایسے ہوتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات اور انعام اور اکرام پر غور کر کے شرمندہ ہو جاتے ہیں اور اس کی نافرمانی اور خلاف ورزی سے بچتے ہیں لیکن ایک قسم لوگوں کی ایسی بھی ہے جو اس کے قہر سے ڈرتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ اچھا اور نیک تو وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی پر کھ سے اچھا نکلے۔بہت لوگ ہیں جو اپنے آپ کو دھوکا دیتے ہیں اور