خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 570 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 570

خطبات مسرور جلد 12 570 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 ستمبر 2014ء دوسروں کو فیض پہنچانے والے ہوں۔پس اگر حقیقی تعلیم پر عمل ہو تو کبھی یہ دکھ اور تکلیفیں جو ایک دوسرے دیئے جا رہے ہیں یہ نظر نہ آئیں۔ایک خوبصورت تصور اسلام کے شجر سایہ دار کا دنیا کے ذہنوں میں ابھرے۔پھر اس آیت کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ بنی نوع کے دل میں مسلمانوں کی محبت کھلتے کی طرح گڑ جائے۔اللہ تعالیٰ یقینا قدرت رکھتا ہے کہ ایسا کر دے لیکن اس نے اس بات کے حصول کے لئے ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ کی شرط لگائی ہے۔جیسا کہ میں نے کہا پہلے مسلمانوں کے لئے جو قرون اولیٰ کے تھے ان کے لئے لوگوں کے دلوں میں یہ محبت ہی تھی جو خدا تعالیٰ نے عیسائیوں کے دل میں اور یہودیوں کے دل میں پیدا کی تھی جو مسلمانوں کے علاقہ چھوڑنے پر روتے تھے، واپسی کی دعائیں کرتے تھے بلکہ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ یہودی کہتے تھے کہ ہم جانیں دے دیں گے لیکن عیسائی لشکر کوشہر میں داخل نہیں ہونے دیں گے تم یہیں رہو ہم حفاظت کریں گے۔(ماخوذ از فتوح البلدان صفحه 87-88 باب يوم اليرموك مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 2000ء ماخوذ از سير الصحابه الله جلد دوم حصه اول مهاجرین صفحه 171-172 ناشر ادارہ اسلامیات لاهور) پس یہ نیک اعمال کا اثر تھا جو ہر سطح پر مسلمانوں سے ظاہر ہوتا تھا۔جس نے اس خوبصورت درخت کی طرف دنیا کومتوجہ کیا اور دنیا کو فیض پہنچایا۔آج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کے غلاموں کا یہ فرض ہے کہ ایمان کی جڑوں کو مضبوط کرنے کے ساتھ اعمال صالحہ کے وہ خو بصورت پتے ، شاخیں اور پھل بنیں جو اسلام کی خوبصورتی کی طرف دنیا کو کھینچنے والی ہو۔جو دنیا کو فیض پہنچانے والی ہو۔اللہ تعالیٰ سے محبت پیدا کرنے والے بھی ہم ہوں اور اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے والے بھی ہم ہوں۔بنی نوع انسان سے محبت بھی ہماری ترجیح ہو اور بنی نوع انسان کی توجہ کھینچنے والے بھی ہم ہوں کیونکہ اس کے بغیر ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں آنے کے مقصد کو پورا کرنے والے نہیں بن سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کئی بار اپنی مختلف تحریروں میں، ارشادات میں، مجالس میں اس طرف ہمیں توجہ دلائی کہ اپنے اعمال صالحہ کی طرف توجہ کرو۔اپنے اعمال کی طرف توجہ کرو۔ایسے اعمال بجالاؤ جو صالح عمل ہوں، جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ہوں ، جو دنیا کو تکلیفوں سے بچانے والے ہوں۔ایک اقتباس میں نے پہلے شروع میں پڑھا تھا۔بعض اور اقتباسات آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔آپ نے ایک موقع پر فرمایا یعنی یہ کہ میری تعلیم کیا ہے اور اس کے موافق تمہیں عمل کرنا چاہئے فرماتے ہیں: