خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 569 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 569

خطبات مسرور جلد 12 569 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 ستمبر 2014ء فرمائے گا۔اور خوف ہو بھی کس طرح سکتا ہے وہ عمل صالح کرنے والے تو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہر عمل کر کے اللہ تعالیٰ کی آغوش میں جا رہے ہوتے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے کہ اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا ( مريم :97) یقینا وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں خدائے رحمان ان کے لئے وہ پیدا کرے گا۔وڈ کے معنی ہیں کہ گہرا پیار اور تعلق سطحی قسم کی محبت نہیں یا پیار نہیں۔گہرا پیار اور تعلق۔ایسا مضبوط تعلق جو کبھی کٹ نہ سکے۔بلکہ اس طرح کا گہرا تعلق جس طرح کل زمین پر گاڑ دیا جاتا ہے، مضبوط ہو جاتا ہے۔اسی طرح وہ گاڑ دیا جائے گا۔اس طرح یہ پیار دل میں گڑ جائے۔پس اس آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ جو مضبوط ایمان اور اعمال صالحہ بجا لانے والے ہوں گے اللہ تعالیٰ ایسے مومنوں کے دل میں اپنی محبت کلے کی طرح گاڑ دے گا۔اس طرح اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والے ہوں گے اور پھر وہ ایمان اور اعمال صالحہ میں مزید بڑھتے چلے جائیں گے۔یا یہ کہ خدا تعالیٰ خود ایسے مومنوں سے ایسی محبت کرے گا جو کبھی ختم نہیں ہو گی۔پس اگر خدا تعالیٰ کی محبت ایک انسان کے دل میں گڑ جائے یا خدا تعالیٰ مومنوں سے ایسا پیار کرے کہ گویا خدا تعالیٰ کے دل میں ان کی محبت گڑ گئی ہے تو اس سے بڑا کامیاب شخص اور کون ہوسکتا ہے وہ تو اپنی ذات میں ہی ایک ایسا خوبصورت اور سایہ دار درخت بن جاتا ہے جو دوسروں کو فیض پہنچانے والا ہوتا ہے کیونکہ اس کا ہر عمل خدا تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والا ہو اور دوسروں کو فیض پہنچانے والا ہو۔پھر اس آیت کا یہ بھی مطلب بنے گا کہ خدا تعالیٰ ایمان لانے والے اور اعمال صالحہ بجالانے والوں کے دلوں میں بنی نوع انسان کی محبت بھی مضبوطی سے گاڑ دے گا۔پس ایک حقیقی مومن کبھی سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ کسی دوسرے انسان کو تکلیف پہنچائے۔بنی نوع انسان سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ایک حقیقی مومن اسے ہمیشہ فیض پہنچانے کی فکر میں رہے۔جیسا کہ میں پہلے بھی بیان کر آیا ہوں کہ یہ چیز اگر مسلمانوں میں پیدا ہو جائے تو ایک دوسرے کے حقوق تلف کرنے ظلم کرنے اور غیروں کو ، دوسروں کو قتل کرنے کے جو عمل حکومتوں میں بھی ہیں، نام نہاد تنظیموں میں بھی ہیں عوام میں بھی ہیں، آجکل بڑے عام نظر آ رہے ہیں یہ بھی نظر نہ آئیں۔اللہ تعالیٰ کی تعلیم پر عمل ہی نہیں ہو رہا اس لئے سب کچھ ہورہا ہے۔لیکن ظلم یہ ہے کہ یہ سب ظلم اللہ تعالیٰ کے نام پر ہورہا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے کہ وڈ پیدا کرو، محبت پیدا کرو۔ایسی محبت پیدا کرو جو دلوں میں گڑ جائے۔ایسے بنو جو