خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 567
خطبات مسرور جلد 12 567 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 ستمبر 2014ء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چلنے کی طرف ترغیب دلائی ، زورد یا تو بدلائی ، اس کی اہمیت واضح کی۔پس یہ جماعت احمدیہ ہی ہے جس کی جڑیں بھی مضبوط ہیں اور شاخیں بھی سرسبز و خوبصورت ہیں اور پھل دار ہیں جو دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے یہ وہ درخت ہے۔جس کو دیکھ کر دنیا کے ہر خطے میں بسنے والے لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ کون سا اسلام ہے جو تم پیش کرتے ہو۔بے شمار واقعات اب ایسے سامنے آتے ہیں کہ حقیقی اسلام کی خوبصورتی دیکھ کر لوگ حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔افریقہ میں ایک جگہ ایک مسجد کا افتتاح ہو رہا تھا۔وہاں کے چیف عیسائی تھے ان کو بھی دعوت تھی۔وہ بھی شامل ہوئے۔وہ کہنے لگے کہ میں یہاں تم لوگوں کی محبت میں نہیں آیا۔میں تو صرف یہ دیکھنے آیا تھا کہ اس زمانے میں یہ کون سے مسلمان ہیں جنہوں نے اپنی مسجد کے افتتاح پر ایک غیر مسلم اور عیسائی کو بھی بلایا۔یہاں آکر یہ دیکھ کر مجھے اور بھی حیرت ہوئی کہ یہاں تو مختلف مذاہب کے لوگ جمع ہیں اور احمدی خود بھی مسلمان ہونے کے باوجود ایسے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کر رہے ہیں جس کی مثال نہیں۔چھوٹا ہو بڑا ہو، امیر ہو غریب ہو، ہر ایک سے یہ لوگ محبت اور پیار سے پیش آرہے ہیں۔اور ایسے تعلقات ہیں اور یہاں ایسے اعلیٰ اخلاق ہیں جن کا مظاہرہ کیا جارہا ہے کہ جو کہیں بھی دیکھنے میں نہیں آتا۔پھر وہ چیف کہنے لگے کہ ایسی مسجدیں اور ایسا اسلام تو وقت کی ضرورت ہے۔پس انہوں نے کہا کہ میرے تمام شکوک و شبہات جو اسلام کے بارے میں تھے وہ دور ہو گئے۔اور پھر انہوں نے مزید کہا کہ آپ نے اس علاقے کو ایک نئی مسجد نہیں دی بلکہ ہمیں ایک نئی زندگی دی ہے۔زندگی کی اعلیٰ قدروں کے اسلوب سکھائے ہیں۔پس ایسے درخت ہوتے ہیں جن کے بارے میں قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ ان کی جڑیں بھی زمین میں مضبوط ہوتی ہیں اور ایمان اور اعمال صالحہ کی وجہ سے اگر انسانوں کو درختوں سے مثال دی جائے تو ان کی سرسبز شاخیں بھی آسمان کی بلندیوں کو چھورہی ہوتی ہیں۔پس جیسا کہ میں نے کہا کہ زمانے کے امام کو ماننے کی وجہ سے ہر احمدی کا فرض ہے کہ ایمان کی مضبوطی کے ساتھ سرسبز شاخیں بن جائے۔سرسبز شاخوں کے خوبصورت پتے بن جائے ان پر لگنے والے خوبصورت پھول اور پھل بن جائے۔جو دنیا کو نہ صرف خوبصورت نظر آئے بلکہ فیض رساں بھی ہو۔فیض پہنچانے والا بھی ہو ورنہ ایمان ویقین میں کامل ہونا بغیر عمل کے بے فائدہ ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ بظاہر ایمان ویقین میں کامل دنیا کے جو لوگ ہمیں نظر آتے ہیں وہ کہنے کو تو اپنے آپ کو ایمان ویقین میں کامل سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں لیکن دنیا کے لئے ٹھوکر کا باعث بن رہے ہیں۔ہم احمدی ہونے کا حق اس وقت ادا کر