خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 566 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 566

خطبات مسرور جلد 12 566 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 ستمبر 2014ء کر مسلمانوں کی فوج کو روتے ہوئے رخصت کیا اور کہا کہ ہم دعا کرتے ہیں کہ تم دوبارہ اس علاقے پر قابض ہو جاؤ تا کہ تمہارے شجر سایہ دار اور پھل دار سے ہم ہمیشہ فیض پاتے رہیں۔جو سہولتیں تم نے ہمیں مہیا کی ہیں وہ تو ہماری ساری حکومتیں بھی ہمیں مہیا نہیں کر سکیں۔(ماخوذ از فتوح البلدان صفحه 87 - 88 باب يوم اليرموك مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 2000ء ماخوذ از سير الصحابه الله جلد دوم حصه اول مهاجرین صفحه 171-172 ناشر ادارہ اسلامیات لاهور) ان مسلمانوں کی یہ قدر اس لئے تھی کہ ان کے ایمان کے ساتھ ان کا ہر عمل فیض رساں تھا۔پس نرے ایمان کے دعوے اور اظہار اور اس کی جڑ کی مضبوطی کا اعلان کسی کام کا نہیں۔جب تک اعمال صالحہ کی سرسبز شاخیں اور پھل خوبصورتی نہ دکھا رہی ہوں اور فیض نہ پہنچا رہی ہوں۔اور جب یہ خوبصورتی اور فیض رسانی ہو تو پھر دنیا بھی متوجہ ہوتی ہے اور اس کے گرد جمع بھی ہوتی ہے اور ان کی حفاظت کے لئے پھر کوشش بھی کرتی ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان کو صرف ایمان میں مضبوطی کا نہیں کہا بلکہ تقریباً ہر جگہ جہاں ایمان کا ذکر آیا ہے ایمان کو اعمال صالحہ کے ساتھ جوڑ کر مشروط کیا اور یہ حالت پیدا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ انبیاء بھی بھیجتا ہے۔یہ حالت مومنوں میں اس وقت پیدا ہوتی ہے جب زمانے کے نبی کے ساتھ تعلق بھی پیدا ہو۔جیسا کہ میں نے کہا بڑے بڑے گروہ ہیں جو دین کے نام پر اور ایمان کے نام پر اپنی مضبوط جڑوں کا اظہار کرتے ہیں لیکن ہو کیا رہا ہے؟ ان کی نہ صرف آپس میں نفرتیں بڑھ رہی ہیں اور ایک گروہ دوسرے گروہ پر اپنی برتری ثابت کرنے کے لئے جو بھی کوشش ہو سکتی ہے جائز نا جائز طریقے سے ظلم سے، وہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ غیر مسلم بھی پریشان ہو کر ان کی وجہ سے اسلام سے خوفزدہ ہو رہے ہیں۔وہ مذہب جس نے غیر مسلموں کی محبتوں کو سمیٹا اور مسلمان حکومتوں کی حفاظت کے لئے غیر مسلم بھی مسلمانوں کی طرف سے لڑنے کے لئے تیار ہو گئے۔اس کی یہ حالت ہے کہ غیروں کو تو کیا کھینچنا ہے خود مسلمانوں کی آپس کی حالت اعمال صالحہ کی کمی کی وجہ سے قُلُوْبُهُمْ شَتَّى (الحشر: 15) کا نظارہ پیش کر رہی ہے۔دل ان کے پھٹے ہوئے ہیں۔آج ان صحیح اعمال کی تصویر پیش کرنا ہر احمدی کا کام ہے جس نے زمانے کے امام اور نبی کو مانا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت ہی وہ خدا تعالیٰ کا لگایا ہوا درخت ہے جس کی جڑیں مضبوط ہیں اور شاخیں بھی سرسبز خوبصورت اور پھل دار ہیں جو دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔اور یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں حقیقی اسلام کی تعلیم سے آشنا کیا ہے۔ہمیں