خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 565
خطبات مسرور جلد 12 565 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 ستمبر 2014ء کرو۔آپ نے ایمان کو ایک درخت سے تشبیہہ دے کر فرمایا کہ اعمال ایمان جو ہے ایک درخت کی طرح ہے اور اعلیٰ سے اعلیٰ درخت کو بھی فائدہ مند بنانے کے لئے اس کا خیال رکھنا پڑتا ہے تبھی درخت فائدہ مند ہوتا ہے تبھی زندہ رہتا ہے جب اس کا خیال رکھا جائے۔اس کی طرف توجہ دینی پڑتی ہے۔اسی طرح ایمان کو بھی کامل کرنے کے لئے اعمال کی ضرورت ہے اور اپنے ایمان کی اعمال کے ذریعہ سے غور و پرداخت کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کے بغیر باوجود ایمان کے یا ایمان کا دعوی کرنے کے انسان مومن نہیں کہلا سکتا۔بغیر عمل کے انسان ایسا درخت ہے جس کی خوبصورت سرسبز شاخیں کاٹ کر اسے بدشکل بنا دیا گیا ہو۔جس کے پھلوں کو ضائع کر دیا گیا ہو۔جس کی سایہ دار شاخوں سے خدا تعالیٰ کی مخلوق کو محروم کر دیا ہو۔ایک درخت جس کی جڑیں چاہے کتنی ہی مضبوط ہوں اور تناور درخت ہواگر اسے کھا د پانی سے محروم کر دیا جائے ، اس کی نکلنے والی کونپلوں اور شاخوں کو ضائع کر دیا جائے تو ایک وقت میں وہ مرجائے گا۔اس کی مضبوط جڑیں اسے کچھ بھی فائدہ نہیں دیں گی۔اگر کچھ عرصہ وہ زندہ بھی رہے تو ایسے شاخوں سے محروم اور کسی بھی قسم کا فائدہ دینے سے عاری درخت کی طرف کوئی بھی نہیں دیکھے گا کسی کی توجہ نہیں ہوگی۔ایک ٹنڈ منڈلکڑی کھڑی ہوگی۔ہر ایک نظر اس خوبصورت پودے اور درخت کو دیکھے گی اور اس کی طرف متوجہ ہوگی جو ہرا بھرا ہو۔جس کی خوبصورتی نظر آتی ہو۔جو درخت وقت پر پھولوں اور پھلوں سے لد جائے۔جو گرمی میں سایہ دینے والا ہو۔اسی کو لوگ پسند کریں گے۔پس بیشک ایمان جو ہے وہ جڑ کی طرح ہے۔بیشک ایک مسلمان دعوی کرتا ہے کہ میرا ایمان مضبوط ہے۔اس کا اظہار ہم اکثر مسلمانوں میں دیکھتے ہیں۔بہت سے لوگ دین کی غیرت بھی رکھتے ہیں۔اسلام کے نام پر مرنے مارنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔آجکل جو مختلف گروہ بنے ہوئے ہیں، تنظیمیں بنی ہوئی ہیں، یہ لوگ اپنے ایمان کی مضبوطی کے کیا کیا دعوے نہیں کرتے۔لیکن کیا اس خوبصورت اور خوشنما درخت یا اس باغ کی طرح ہیں جو دنیا کو فائدہ دے رہا ہو؟ لوگ اس کی خوبصورتی دیکھ کر اس کی طرف کھنچے چلے جا رہے ہوں؟ جتنی شدت سے یہ متشدد گروہ یا لوگ اپنے دین کے نام پر شدت پسندی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اسی شدت سے دنیا ان سے دور بھاگ رہی ہے۔وہ دین جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے اس نے تو دشمنوں کو بھی اپنی طرف کھینچ کر نہ صرف دوست بنالیا تھا بلکہ شدید محبت میں گرفتار کر لیا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا یہ اثر تھا کہ جب مسلمان حکومت ایک موقع پر یہ بھی کہ اس وقت رومی حکومت کا مقابلہ مشکل ہے اور وہ مقبوضہ علاقہ جس میں عیسائی اور یہودی اکثریت تھی اسے مسلمانوں نے چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو عیسائی اور یہودی سب نے مل و