خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 545
خطبات مسرور جلد 12 545 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 ستمبر 2014ء لوگ یا ان جیسے جو لوگ ہیں ان میں کوئی یہ نہ سمجھے کہ انہوں نے دنیا کی اصلاح کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔ایسے دو واقعات ہوئے ہیں۔اسی طرح ایک احمدی جس کے ساتھ ایک دوسری جرنلسٹ تھیں۔اس احمدی کو ایک احمدی نے کہا کہ اس عورت کو کہو ہمارے ماحول میں سر ڈھانکنا ضروری ہے، اپنا سر ڈھانکے۔تو ایسے مردوں کو میں کہوں گا کہ آپ لوگ پہلے اپنے گھروں کو سنبھال لیں۔یہی عمل ہیں جو پھر اسلام سے متنفر کرتے ہیں۔دنیا کی اصلاح انشاء اللہ خود بخود ہو جائے گی۔جیسا کہ میں نے مسلمان جرنلسٹ کا یہ واقعہ سنایا ہے کہ بغیر حکمت کے شدت پسندی کے حکم کی وجہ سے ،اس کے باپ کے رویے کی وجہ سے وہ اسلام سے متنفر ہو گئی، پرے ہٹ گئی اور باغیانہ رویہ اختیار کر لیا لیکن یہاں آ کر جب اس نے احمدی عورتوں کا رویہ اور ان کی آزادی دیکھی تو اس کو خواہش پیدا ہوئی کہ کاش میں احمدی گھر میں پیدا ہوئی ہوتی۔پس یہ جو اصلاحیں ہیں، یہ عورت کی اصلاح عورت کے ذریعہ سے ہونی چاہئے اور خاص طور پر یورپ میں جہاں پہلے ہی یہ شور ہے کہ مرد سختی کرتے ہیں اور عورتوں کے ساتھ غیر ضروری ظالمانہ سلوک ہوتا ہے۔مرد جب اس قسم کی حرکتیں کرتے ہیں تو ایسے بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔پس اگر کوئی ایسی بات ہو تو یہ عورتوں کا کام ہے کہ وہ پیار سے محبت سے سمجھا دیں کہ یہاں اس ماحول میں ایسا ہے اور لجنہ اپنا کام کرتی ہیں اور اگر کسی نے کچھ نہیں بھی اوڑھا ہوا تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ان کے مطابق لباس بہر حال ان کے حیادار ہوتے ہیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایم ٹی اے بھی جلسے کے پروگرام اپنوں اور غیروں تک پہنچانے میں بڑا کردار ادا کرتا ہے اور اس سال اس کا بھی ہمیشہ کی طرح بہت بڑا کردار رہا ہے۔جہاں اس کے ذریعہ سے جلسے کی کارروائی دیکھنے والے احمدیوں نے خوشی کا اور تشکر کا اظہار کیا ہے وہاں غیروں نے بھی اس بارے میں بڑے اچھے تاثرات کا اظہار کیا ہے۔غیر از جماعت عربوں نے بھی اس دفعہ بڑے اچھے تاثرات بھیجے ہیں بلکہ یہاں تک کہا ہے کہ حقیقی اسلام یہی ہے جس کی دنیا کو ضرورت ہے جو جماعت احمد یہ پھیلا رہی ہے اور بعضوں نے پھر یہ بھی کہا کہ یہی حقیقی خلافت کا نظام ہے جس کی آج مسلم امہ کو ضرورت ہے۔پھر اس سال ایم ٹی اے کے جلسے کے جو پروگرام تھے وہ جلسے کے تین دنوں میں روزانہ کچھ گھنٹے کے لئے گھانا کے نیشنل ٹی وی، سیرالیون کے نیشنل ٹی وی اور نائیجیریا کے ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل نے بھی دکھائے۔اس کا بھی ان علاقوں میں اور ملکوں پہ بہت اچھا اثر ہوا۔اور بڑا اچھا فیڈ