خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 539 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 539

خطبات مسرور جلد 12 539 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 ستمبر 2014ء حفاظت میں رکھے۔سیرالیون سے آنے والے وفد میں ڈاکٹر عثمان فوفا صاحب جو انٹر ریلیجس کونسل سیرالیون کے جنرل سیکرٹری ہیں۔پھر ایک پروفیسر کریم صاحب یونیورسٹی میں سائنس کے شعبہ کے ہیڈ ہیں اور سیرالیون مسلم کانگرس کے جنرل سیکرٹری ہیں۔پھر ایمبو بنگو را صاحب جو ملک کے دارالحکومت فری ٹاؤن میں رولنگ پارٹی کے چیئر مین ہیں شامل تھے۔یہ جو بنگو را صاحب ہیں انہوں نے اللہ کے فضل سے بیعت بھی کر لی ہے۔ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ جلسہ سالانہ کی کارروائی سیرالیون کے ٹی وی نے لائیو نشر کی ہے اور صدرمملکت سیرالیون نے بھی جلسہ کی کارروائی دیکھی۔جب ٹومی کالون صاحب نے تقریر ختم کی تو صدر مملکت نے جلسہ گاہ میں اپنے وفد کے ممبران کو فون کر کے جلسے کی مبارکباد دی۔اس سال ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کے منسٹر آف لیگل افیئر زمسٹر پرکاش رمادار ( Mr۔Prakash Ramadhar) بھی شامل ہوئے۔کہتے ہیں کہ کمیونٹی کے ممبرز کا خلیفہ اسیح کے لئے جو پیار تھا انسان اس کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔جہاں تک جلسے کی بات ہے تو ہر چیز ز بر دست تھی۔وہاں کام کرنے والوں کا اخلاص اور جذ بہ اس حقیقت پر گواہ تھا کہ یہ جماعت کسی انسان کی بنائی ہوئی جماعت نہیں ہے بلکہ اس جماعت کے پیچھے خدا تعالیٰ کا ہاتھ ہے۔کہتے ہیں میں جلسے میں شامل ہو کر اندر سے ہل گیا ہوں۔میرے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے ایمانداری ، انکساری اور اخلاص کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق دے۔کروشیا سے نو افراد پر مشتمل وفد جلسے میں شامل ہوا۔ان میں سے پانچ کیتھولک خواتین تھیں جن میں سے چار یو نیورسٹی کی طالبات اور ایک خاتون میوزیم ڈیپارٹمنٹ کی ہیڈ ہیں۔اس کے علاوہ چار مرد احباب تھے۔جن میں ایک زاغرب میں مسلم عربک سینٹر کے ہیڈ تھے اور باقی تین کیتھولک تھے۔عربک سینٹر کے ڈائریکٹر علی بیگووچ کہنے لگے کہ میں نے دنیا کے مختلف ممالک میں بے شمار ایونٹس (events) میں شمولیت کی ہے لیکن احمد یہ جماعت کے جلسے میں جس اخلاص اور محبت سے بچے خدمت بجالا رہے تھے یہ منظر میں نے کبھی پہلے نہیں دیکھا۔جامعہ کے جو کارکنان یعنی سٹوڈنٹ بیچے ، کارکن، والنٹیر زہماری خدمت کر رہے تھے کہتے ہیں ان کے طریق خدمت نے سب کے دل موہ لئے۔وفد کی ایک رکن ساندرا صاحبہ جو میوزیم ڈیپارٹمنٹ کی ہیڈ ہیں کہنے لگیں۔ہمیں معلوم نہیں کہ یہ کارکنان کب آرام کرتے ہیں۔جب دیکھو ڈیوٹی پر مستعد ہوتے ہیں۔کہنے لگیں کہ ایسے فدائی رضا کار میں نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھے۔پھر عالمی بیعت کی تقریبات خصوصاً سجدہ شکر اور لوگوں کا گریہ