خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 536
خطبات مسرور جلد 12 536 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 ستمبر 2014ء سال میں جماعت نے اس قدر ترقی کی ہے کہ دنیا کے 206 ممالک میں جماعت قائم ہو چکی ہے۔یہ یقینا الہی تائید و نصرت کے بغیر ممکن نہیں۔پھر کہتے ہیں کہ جلسے پر ہر چیز منظم اور باقاعدہ ایک ترتیب کے مطابق تھی اور جہاں نظام اور ترتیب ہو وہاں خدا ہوتا ہے۔یہ عیسائی ہیں اور عیسائیوں کے تاثرات ہیں۔انہوں نے میرا انٹرویو لیا۔اس کے بعد انہوں نے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک جا کے اپنے ٹی وی کے لئے جماعت کے بارے میں ایک گھنٹے کی ایک ڈاکومنٹری بھی بنا ئیں گے۔اس کے علاوہ مالٹا سے مائیکل گریک (Michael Grech) صاحب جلسہ میں شامل ہوئے۔یہ کالج میں فلاسفی پڑھاتے ہیں۔اخبارات اور رسائل میں مضامین بھی لکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں جلسہ سالانہ کی کارروائی اور تقاریر پر مشتمل ایک جامع تفصیلی مضمون لکھنا چاہتا ہوں تا کہ دوسرے لوگ بھی اس سے استفادہ کر سکیں اور اس جلسے میں بیان کئے گئے دینی و دنیوی فلاح و بہبود سے متعلق بیان فرمودہ زریں نصائح اور اصولوں سے فائدہ اٹھاسکیں۔فرنچ گیانا سے بھی احمدی اور غیر احمدی مہمان جلسے میں آئے تھے۔ان مہمانوں میں ایک غیر احمدی مہمان مسٹر تھیری ایٹی کوٹ (Mr۔Thierry Atticot) تھے جو کہ تاریخ کے پروفیسر ہیں اور عقیدے کے لحاظ سے عیسائی ہیں۔کہتے ہیں جب مجھے جلسہ میں شامل ہونے کی دعوت ملی تو مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ مجھے یہ لوگ کیوں دعوت دے رہے ہیں۔بعض ویڈیوز بھی مجھے دکھائی گئیں۔سمجھایا بھی گیا لیکن پھر بھی جلسے کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا۔لیکن اب خود جلسے پر آ کر مجھے سمجھ آگئی ہے کہ اس جلسے کی جماعت میں کیا حیثیت ہے بلکہ پوری دنیا کے لئے یہ جلسہ کتنا اہم ہے۔دنیا کو ایسے جلسوں کی ضرورت ہے جس میں محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں، نعرہ ہو۔کہتے ہیں کہ جلسے کی کارروائی کے آغاز میں جو تلاوت قرآن کریم ہوتی تھی اس سے بھی میری روح کو ایک عجیب لطف پہنچتا تھا جسے میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔اب میں نے ان تلاوتوں کی آڈیو بھی لے لی ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ میرے لئے سکون کا موجب ہوگی۔پھر اس دفعہ یہاں سے بھی اور باہر کے ملکوں سے بھی مختلف پریس کے کافی جرنلسٹس بھی آئے ہوئے تھے۔ایک ہندو جرنلسٹ نے کہا کہ میری ماں نے مجھے منع کیا تھا کہ مسلمانوں کے فنکشن پر نہ جاؤ۔یہ بڑے خطر ناک لوگ ہیں۔تمہیں مارمور دیں گے اور پتا بھی نہیں لگے گا کہ کہاں گئی ہو۔خیر کہتی ہیں لیکن میں نے اپنی ماں کی بات نہیں مانی۔مجھے یہاں جو تجربہ ہوا ہے اب میں اپنی ماں کو جا کر کہوں گی کہ احمدی ہم