خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 529
529 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 ستمبر 2014ء خطبات مسرور جلد 12 اس کا اتنا اثر ہوتا ہے کہ بیعت کر لیتے ہیں۔اس دفعہ بھی دو مہمانوں نے جو رشیا سے تھے جلسے کا ماحول دیکھ کر بیعت کی۔اسی طرح گوئٹے مالا اور چلی اور کوسٹاریکا کے امریکن ممالک کے بعض لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے جلسے پر عالمی بیعت کے دوران تو بیعت نہیں کی لیکن انتہائی متاثر تھے۔تمام جلسہ سنا پھر مجھ سے ملاقات کی اور کہنے لگے ہمیں افسوس ہے کہ ہم بیعت نہیں کر سکے۔ہمارے دل بالکل اس طرف مائل ہیں۔ہم نے حقیقت کو سچائی کو پہچان لیا ہے، سمجھ لیا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو دیکھا ہے کہ کس طرح جماعت پر نازل ہوتے ہیں اور ہم بھی اب بیعت کرنا چاہتے ہیں۔ہماری بیعت لے لیں۔چنانچہ کل ایسے چھ افراد، چار مرد اور دو خواتین نے ظہر کی نماز کے بعد بیعت کی۔بعض لوگ جو شامل ہوتے ہیں ان کے تاثرات تو میں بیان کروں گا لیکن ان بیعت کرنے والوں کے تأثرات میں پہلے بیان کرتا ہوں جنہوں نے وہاں بیعت نہیں کی تھی لیکن کل کی۔ان میں سے ایک دوست سمیع قادر صاحب ہیں جو گوئٹے مالا میں رہتے ہیں۔اردن سے ان کا تعلق ہے۔کاروبار کے سلسلے میں وہاں ہیں۔کہتے ہیں کہ میں نے اس جلسے میں باہمی اخوت و محبت کی وہ عملی صورت دیکھی جو ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں پیدا کرنا چاہتے تھے۔جلسہ سالانہ کے بہترین انتظامات، نظم وضبط، احباب کا اخلاص و وفا اور باہمی ہمدردی اور اخوت کے جذبے نے بہت متاثر کیا۔اور اس حدیث مبارکہ کی عملی تصویر دیکھی کہ مومنین کی باہم محبت و اخوت کی مثال اس جسم کی طرح ہے کہ جس کے ایک حصے کو تکلیف پہنچے تو سارا جسم اسے محسوس کرتا ہے۔پھر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کارکنان جلسہ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔اسی طرح کو سٹاریکا سے آنے والے وفد میں حیدرس پیلیا صاحب شامل تھے۔وہ کہتے ہیں کہ مجھے جماعت احمدیہ کے اعلیٰ انتظام نے بہت متاثر کیا۔جماعت احمدیہ کے ہر ممبر کا اپنے ذمہ لگائی گئی ڈیوٹی کو اخلاص کے ساتھ ادا کرنے نے از حد متاثر کیا۔میں دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے لوگوں سے مل کر ، ان سے گفتگو کر کے اور ان کے ساتھ باہمی تبادلہ خیالات کر کے بہت خوش ہوا ہوں۔جلسے میں شمولیت سے حقیقی اسلام کی طرف میری توجہ مزید بڑھی ہے اور اس حوالے سے اخلاص اور ایمان نے ترقی کی ہے۔اور خلیفہ وقت کے خطابات، نصائح اور رہنمائی بغیر شیعہ اور سنی کی تمیز کے تمام مسلمانوں کے لئے ہیں۔پھر کوسٹاریکا سے ہی ایک خاتون ڈیانا نعیمہ Diana Naima) صاحبہ کہتی ہیں۔جلسے میں شمولیت ایک انوکھا تجربہ تھا۔دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے مختلف اقوام ونسل کے لوگوں کے باہمی