خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 523 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 523

خطبات مسرور جلد 12 523 خطبه جمعه فرموده مورخه 29 اگست 2014ء پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دوسروں کو اپنے نفسوں پر ترجیح دو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جلسے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ جب بے شمار لوگ ایک جگہ اکٹھے ہوں تو بعض ضرورتیں پیدا ہوتی ہیں تو ایسے وقت ایک حقیقی احمدی کا یہ کام ہے کہ اپنی ضرورت کو دوسروں کے لئے قربان کرے اور محبت و ایثار کا نمونہ دکھائے۔نہ صرف قربان کرے بلکہ اس نمونے میں محبت و ایثار بھی ٹپک رہا ہو۔(ماخوذ از شہادۃ القرآن ، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 394-395) پھر اللہ تعالیٰ کو عاجزی بہت پسند ہے ایک مؤمن کو عاجزی کی تلقین کی گئی ہے۔جب بہت سارے لوگ اکٹھے ہوں تو بعض دفعہ بہت سے مسائل معاشرے میں اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ تکبران مسائل کو حل کرنے سے روک رہا ہوتا ہے۔ایک احمدی کو تو خاص طور پر عاجزی اختیار کرنے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس وصف کو خاص طور پر بڑا سراہا ہے اور فرمایا کہ ” تیری عاجزانہ را ہیں اس کو پسند آئیں۔“ ( تذکره صفحه 595 ایڈیشن چہارم مطبوعہ ربوہ) پس جب ہم آپ کی طرف منسوب ہونے کا دعوی کرتے ہیں تو ان اوصاف کو اپنانے کی طرف بھی خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اسی طرح حسن ظنی ہے سچائی ہے سچائی کا اظہار ہے اور ہر حالت میں سچائی کا اظہار ضروری ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سچائی کا ایسا معیار ہو اور انصاف کا ایسا معیار ہو کہ اگر اپنے خلاف یا اپنے پیاروں کے خلاف بھی بات جاتی ہو تو کر ولیکن سچائی کو کبھی ہاتھ سے نہ جانے دو۔معاف کرنا ہے،صبر کرنا ہے، یہ سب قسم کی نیکیاں ہیں جو ہمیں اپنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔اور ان کا اظہار ایسے موقعوں پر ہی ہوتا ہے جب بہت سارے لوگ جمع ہوں اور بعض ایسی باتیں ہو جائیں جس کی وجہ سے انسان کے اخلاق کا پتا لگتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ماننے والوں کو قرآنی تعلیم کی روشنی میں خاص طور پر ان کو اپنانے کا ارشاد فرمایا ہے۔پھر عدل اور احسان کے معیار حاصل کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے اور عدل اور احسان کے جیسے معیار قرآن کریم نے قائم فرمائے ہیں کسی اور کتاب نے ایسے معیار قائم نہیں فرمائے کہ دشمن کی دشمنی بھی تمہیں عدل اور انصاف کرنے سے نہ روکے۔یہ ہیں وہ معیار جو اسلام کا خاصہ ہے اور ایک مسلمان کا خاصہ ہے اور ہونا چاہئے۔اور ان تمام نیکیوں کو اپنانے کا ہمیں حکم ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام